صوفی پوٹھوہارحضرت امیر افضل آثم سرکار کے شعری مجموعے :حافظ حماد علی حافی  

صوفی پوٹھوہار حضرت امیر افضل آثم سرکار مدظلہ العالی خطہ پوٹھوہار کے ان چند شعراء میں سے ایک ہیں جن کی تابناکی بزمِ سخن کو ہمیشہ درخشاں رکھے گی۔ آپ 6 جون 1946ء کو ضلع راولپنڈی تحصیل کہوٹہ کے ایک پرکشش اور جاذب النظر گاؤں جیوڑہ میں پیدا ہوئے۔1976 ء میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے شاگرد رشید حضرت مولوی عبد الرحمن عبدل چشتی گولڑوی علیہ الرحمۃ سے فیضانِ سخن پا کر جہانِ سخنوری میں یوں جلوہ افروز ہوئے کہ پوٹھوہاری ادب کے اساتذہ میں شمار ہونے لگے۔ گزشتہ دنوں آپ کی دو کتابوں (” صدائے سگِ کوئے جاناں اور ”آہِ نیم شب“) کی رونمائی ہوئی جس میں پوٹھوہاری ادب کے ماہرین و شائقین تشریف لائے۔ یقیناً یہ دو کتابیں پوٹھوہاری ادب کے قارئین کیلئے ہمیشہ اصلاح کا سامان کرتی رہیں گی۔ کیونکہ حضرت امیر افضل آثم نے روایتی قلمکاری کے خارزاروں سے نکل کر علم و عمل کا وہ چراغ روشن کیا جس کی روشنی آمدہ نسلوں کو بھی فنی ضوفشانیوں سے ہمکنار کرتی رہے گی۔آپ کی تخلیقات میں جو گہرائی، سادگی اور معنویت ہے، وہ ہر قارئین کو اپنے اندر ایک نیا سفر طے کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
پوٹھوہاری ادب میں آپ کی شمولیت ایک سنگ میل کی مانند ہے جس نے نہ صرف اس خطے کی شاعری کو بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی ثقافت کو بھی ایک مضبوط آواز دی۔آپ کی کتاب ”صدائے سگِ کوئے جاناں ” میں ایک دردمندی اور تڑپ کا اظہار پایا جاتا ہے جو انسان کی داخلی کیفیات اور روحانی کیفیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اس میں ہمیں ایک گہری زندگی کی حقیقت کا سامنا ہوتا ہے، جس میں انسان کی تلاش، ادھوری امیدیں اور سچی محبت کے جوہر کا ایک منفرد تصور ملتا ہے۔”آہِ نیم شب“ میں شاعر نے رات کے سناٹے اور خاموشی میں دل کی گہرائیوں کو چھو کر انسان کے اندر کی تنہائی، اضطراب اور محبت کے پیچیدہ رشتوں کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب دل و دماغ کے درمیان ایک روحانی پل کا کام کرتی ہے، جہاں ہر لفظ میں انسان کی کمزوریوں، جذباتی کشمکش اور روحانی سچائیوں کا اظہار ہوتا ہے۔
آپ کی شاعری میں آپ کی فنی مہارت اور زبان کی سادگی کا جو امتزاج ہے، وہ ہر سطح پر قارئین کو متاثر کرتا ہے۔ آپ نے شاعری کے دائرے میں ہمیشہ جدت کے ساتھ ساتھ روایت کو بھی مقدم رکھا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری کو نہ صرف روایتی ادب کے حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے بلکہ نئی نسل کے دلوں میں بھی یہ شاعری گھر کر گئی ہے۔ آپ کی شاعری میں ایک خاص قسم کی دردمندی اور انسانیت کے لیے محبت کا بھی عنصر موجود ہے، جو نہ صرف ادب کے شائقین بلکہ ہر انسان کے دل میں اپنی جگہ بناتا ہے۔
صوفی پوٹھوہاری کی قلمکاری اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر ہیں بلکہ ایک ایسے فکری رہنما بھی ہیں جو اپنی شاعری کے ذریعے معاشرتی اور روحانی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔آپ کی ادبی خدمات اور آپ کی شاعری میں جو بصیرت اور حکمت کی جھلکیاں ہیں، وہ ہمیں ہمیشہ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کا اثر ہمیشہ پوٹھوہار کے ادب اور پاکستان کی شعری تاریخ میں زندہ رہے گا۔
یقینا آپ کے تلامذہ سمیت وہ تمام لوگ خراجِ تحسین کے لائق ہیں جو اس گلزار کی آبیاری میں بے لوث خدمات پیش فرما رہے ہیں۔اللہ تعالی اس چمن کو دوام عطا فرمائے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top