Author name: By Pothwar Nama

راجہ ولایت اظہرؔ اور ان کتابیں اور چو مصرع شاعری

راجہ ولایت اظہرؔ(للیال، گوجر خان) — تعارف راجہ ولایت اظہرؔ ولد راجہ منصب داد، 8 اگست 1934 کو للیال (نزد سکھو، گوجر خان) میں پیدا ہوئے۔ آپ خطۂ پوٹھوہار کی شعری روایت کے ایک ممتاز اور منفرد شاعر تھے، جنہوں نے خصوصاً “چو مصرع” کی صنف میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ آپ کی شاعری فکری گہرائی، روحانی احساس اور جمالیاتی اظہار کا حسین امتزاج ہے، جس میں حقیقت، مجاز، تشبیہات اور علامتی اظہار بڑی خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتا ہے۔ آپ کے استادِ سخن غلام نبی اختر (ترلائی کلاں، اسلام آباد) تھے، جبکہ آپ نے پیر عبد اللہ شاہ نقشبندی (بھنگالی، گوجر خان) کے دستِ حق پر بیعت کی ہوئی تھی۔ اس روحانی وابستگی نے آپ کی شخصیت اور شاعری دونوں کو ایک خاص صوفیانہ رنگ عطا کیا۔ راجہ ولایت اظہرؔ کو سائیں احمد علی پشاوری ثمہ پنڈی سے گہری عقیدت و محبت حاصل تھی۔ آخری عمر میں ان […]

راجہ ولایت اظہرؔ اور ان کتابیں اور چو مصرع شاعری مزید پرھیں

تاریخ بلوچستان کے حوالے سے چند اہم کتب

تاریخ بلوچستان کے حوالے سے چند اہم کتب 1۔Tareekh-e-Balochistan | تاریخِ بلوچستان ،Rai Bahadur Hatu Ram | رائے بہادر ہتو رام 2-Aaina-e-Balochistan | آئینہ بلوچستان،Lieutenant Colonel Muhammad Ismail Siddiqi | لفٹیننٹ کرنل محمد اسماعیل صدیق 3-Tareekh-e-Baloch-o-Balochistan | تاریخ بلوچ و بلوچستان،Mir Naseer Ahmad Khan Zai | میر نصیر احمد خان زئی 4۔Tareekh-e-Balochistan: Shakhsiyaat Ke Aaine Mein | تاریخِ بلوچستان: شخصیات کے آئینے میں،Aziz Muhammad Bugti | عزیز محمد بگٹی 5-Tareekh-e-Balochistan: Tareekh Ke Aaine Mein (Hissa Doem) | تاریخِ بلوچستان: تاریخ کے آئینے میں (حصہ دوم) By (author)،Justice Mir Khuda Bakhsh Bijarani Marri | جسٹس میر خدا بخش بجارانی مری 6۔Balochistan Aur Sistan Ke Khadokhal | بلوچستان اور سیستان کے خدوخال،G. P. Tate | جی پی ٹیٹ 7۔Balochistan Ke Sarhadi Chapa Mar PDF/بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار،جنرل ڈائر مزید کتب بھی ان شاء اللہ آپکی خدمت میں پیش کی جائیں گی ان میں سے بعض تعارف کے لئے ہیں اور بعض

تاریخ بلوچستان کے حوالے سے چند اہم کتب مزید پرھیں

عہدِ انگریز میں ضلع راولپنڈی کے ذیل داروں اور انعام خوروں کی تاریخی منظرکشی، جس میں برطانوی افسران، مقامی بااثر شخصیات، راولپنڈی کا نقشہ اور انعامات کی علامتی تصاویر شامل ہیں۔

خطہ پوٹھوہار میں انگریز کے ذیل دار اور انعام خور

خطہ پوٹھوہار میں انگریز کے ذیل دار اور انعام خور یہ وہ افراد ہیں جن کے ذریعے انگریز نے خطہ پوٹھوہار پر راج کیا انکو سپیشل انعام اور زمینیں ملی ہیں اسکے علاوہ نمبرداروں نے بھی انگریز کے نمک حلالی ہونے کا حق ادا کیا ۔آپکو تاریخ کی کتب میں ان سب کے أحوال مل جائیں گے ذیل میں ہم عارف منہاس صاحب کی کتاب تاریخ راولپنڈی کی جلد دوم سے اقتباس پیش کرتے ہیں عارف منہاس صاحب لکھتے ہیں کہ ذیل دار و انعام خوار انگریز علاقہ کے سرکردہ اشخاص کی خدمت میں پیش کر کے نظامِ حکومت چلاتا تھا۔ ایک ذیل تقریباً دو یا تین پٹوار حلقوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ ذیل دار اور انعام خوار بڑے ہی بااثر اور معروف قبائل میں سے لیے جاتے تھے تاکہ یہ لوگ اپنے ذاتی اثر و رسوخ اور حکومت کے تعاون و حمایت سے علاقہ میں امن و امان

خطہ پوٹھوہار میں انگریز کے ذیل دار اور انعام خور مزید پرھیں

عہد انگریز میں ضلع راولپنڈی کے انتظامی امور کی تاریخی تصویر، جس میں برطانوی دور کا راولپنڈی شہر اور سرکاری عمارت دکھائی گئی ہے

عہد انگریز میں ضلع رالپنڈی کے انتظامی امور

عہد انگریز میں ضلع رالپنڈی کے انتظامی امور (یہ تحریر خطہ پوٹھوہار کے عظیم محقق و تاریخ دان عارف منہاس کی کتاب تاریخ راولپنڈی سے لی گئی ہے ابن محمد جی قریشی) ۱۸۳۹ میں جب انگریز نے راولپنڈی پر قبضہ کیا تو پورے صوبہ کو آٹھ اضلاع میں تقسیم کیا اور اس کے سربراہ کمشنر کا نام دیا گیا۔یہی ضلع کی عدلیہ اور انتظامیہ کا سربرا ہوا کرتا تھا۔ مگر 1۸۵۰ میں ضلع کوڈپٹی کمشنر کے سپرد کیا گیا۔ ڈی سی کے علاوہ دو اے سی اور ۳ ای ۔ اے سی مقرر کئے گئے ۔ ان کے علاوہ ڈسٹرکٹ اور دوہزنل حج کو ہائی کورٹ کے حج کے برابر اختیارات دئیے گئے ۔ مری کا سر براہ اے ۔سی۔ ہوا کرتا تھا۔ تحصیلدار کو سب رجسٹرار کہا جاتا تھا۔ ہر تصیل میں تحصیلدار تعینات تھے ۔ جب کہ گوجر خان اور راولپنڈی میں تحصیلدار کے علاوہ نائب تحصیلدار بھی

عہد انگریز میں ضلع رالپنڈی کے انتظامی امور مزید پرھیں

یہ مسلمانوں کے اُس لشکر کا عَلَم ہے جو معرکۂ عُقاب میں استعمال ہوا تھا۔

یہ مسلمانوں کے اُس لشکر کا عَلَم ہے جو معرکۂ عُقاب میں استعمال ہوا تھا۔اسی تاریخی پرچم کو اسپین میں آج بھی ہر سال 20 جولائی کو یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اندلس میں اسلامی سلطنت کی پہلی عظیم اور فیصلہ کن شکستوں میں شمار ہوتی ہے؛ ایک ایسی شکست جس نے پورے خطے کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔یہ مشہور تاریخی جنگ ’’معرکۂ عُقاب‘‘ کہلاتی ہے، جسے ہسپانوی تاریخ میںBatalla de Las Navas de Tolosaکے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ جنگ 16 جولائی 1212ء کو ہوئی، جب سلطنتِ موحدین کے سلطان محمد الناصر نے عیسائی اتحادی افواج کے مقابلے میں مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کی۔یہ معرکہ ’’حصن العُقاب‘‘ اور وادی ’’نافاس دی تولوسا‘‘ کے قریب پیش آیا، جو آج کے اسپین کے جنوبی علاقے میں واقع ہے۔اس جنگ میں قشتالہ، ارغون، ناوارا اور دیگر عیسائی ریاستوں نے متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی صلیبی فوج

یہ مسلمانوں کے اُس لشکر کا عَلَم ہے جو معرکۂ عُقاب میں استعمال ہوا تھا۔ مزید پرھیں

تحصیل راولپنڈی میں انگریز کی جاگرداری بندر بانٹ

ضلع راولپنڈی میں انگریزنے جو بندر بانٹ کی تھی وہ 3307 لمبردار تھے جن میں انکے بطور انعام انگریز نے جاگیریں دی تھی ذیل میں اسکا نقشہ بھی موجود ہے یہ صرف دیہاتوں کی بندر بانٹ ہے شہروں میں جو ذیل دار اور انعام خور تھے وہ الگ سے ہیں(یہ نقشیہ رالپنڈی گزٹ 1904 سے لیا گیا ہے) انگریز اس گزٹ میں ان لمبرداروں کے متعلق لکھتا ہے کہ: ڈیلدار اور بڑے سردار: ضلع راولپنڈی میں کوئی ذیلدار تعینات نہیں کیے گئے، اور نہ ہی وہاں کوئی اعلی لہر دار موجود ہیں۔ اس کی بجائے متعدد چھوٹی گرانٹس (لمبر داری انعام) مفید اور ممتاز دینی سرداروں کودی گئی ہیں۔ یہ یا ان سے ملتے جلتے انعام قبل ازیں پٹواری کی وصول کردہ فیسوں میں سے ادا کیے جاتے تھے، لیکن واضح طور پر یہ ماخذ درست نہیں تھا۔ حکومت پنجاب کے حکم سے یہ نظام ختم کر دیا گیا؛ اور

تحصیل راولپنڈی میں انگریز کی جاگرداری بندر بانٹ مزید پرھیں

Scroll to Top