کلیرنس ارل گیڈین فلوریڈا کا ایک کم پڑھا لکھا، بے روزگار اور عمر رسیدہ آدمی تھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے پانچ ڈالر کے سکے چرائے ہیں۔ الزام میں نہ کوئی گواہ تھا، نہ کوئی ٹھوس شہادت، صرف کسی کا یہ اندازہ کہ چوری شاید اسی نے کی ہو، اور عدالت کے لیے یہ اندازہ کافی سمجھا گیا کیونکہ ارل قانون کی زبان نہیں جانتا تھا اور وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ جب جج نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس وکیل ہے تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا اور سرکاری وکیل کی درخواست کی، مگر جواب ملا کہ قانون میں اس کی اجازت نہیں، یوں غربت نے اسے جرم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ جیل کی خاموش راتوں میں ارل یہی سوچتا رہا کہ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس کی بے بسی کیوں نظر انداز کی جا رہی ہے۔ ایک دن اسے ایک کچی پنسل ملی اور اسی پنسل سے اس نے ٹوٹی پھوٹی تحریر میں ایک درخواست لکھی جس میں نہ قانونی اصطلاحات تھیں نہ خوب صورت عبارت، بس ایک سادہ سا سوال تھا کہ اگر قانون ایک ہے تو اسے وکیل کیوں نہیں دیا گیا، اور یہ درخواست اس نے امریکی سپریم کورٹ کو بھیج دی۔
سپریم کورٹ میں روزانہ ہزاروں درخواستیں آتی ہیں اور اکثر فائلوں کے انبار میں دب جاتی ہیں، مگر کسی لمحے ارل کی تحریر پر کسی کی نظر ٹھہر گئی اور عدالت نے اس معاملے کو سننے کا فیصلہ کیا، یوں ایک معمولی سا مقدمہ ریاست کے خلاف ایک بڑے سوال میں بدل گیا۔ ارل کو وکیل فراہم کیا گیا اور پہلی ہی سماعت میں واضح ہو گیا کہ اس کے خلاف الزام بے بنیاد ہے، وہ بے گناہ ثابت ہو گیا، مگر اس فیصلے کی اصل اہمیت صرف اس کی رہائی نہیں تھی بلکہ سپریم کورٹ نے یہ اصول طے کر دیا کہ جو شخص وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، ریاست اس کے لیے وکیل فراہم کرنے کی پابند ہو گی، اور یوں پانچ ڈالر کے سکے چرانے کا الزام امریکی عدالتی تاریخ میں ایک مستقل حق کی بنیاد بن گیا۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ قانون کی اصل عزت وہاں ہوتی ہے جہاں عدالتیں کمزور اور ان پڑھ آدمی کی ٹوٹی ہوئی تحریر کو بھی سنجیدگی سے پڑھیں، کیونکہ جہاں قانون امیر اور غریب کے لیے الگ ہو جائے وہاں عدالتیں تو قائم رہتی ہیں مگر انصاف آہستہ آہستہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔
یہ معلومات ریاض خٹک کی وال سے لی گئی ہیں

