ہاں یہ سچ ہے سرکاری کرپشن کی چشم کشا کہانیاں

کڑوا سچ

برگیڈیئر محمد اسلم گھمن کی یہ کتاب اُن کی خودنوشت ہے۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کیسے گزاری۔ ایسی زندگی کہ جسے پڑھ کر انسان کا جی چاہتا ہے کہ کاش وہ بھی ایسی باوقار اور بااصول زندگی گزار سکے۔ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ڈی جی رہے ہیں۔ انہوں نے کرپشن کی ایسی ایسی وارداتیں بے نقاب کی ہیں کہ آدمی کا سر شرم سے جھک جائے۔
اس کتاب میں حکمرانوں، سیاستدانوں، افسروں اور بااثر افراد کی ایسی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کے عنوان بھی چونکا دینے والے ہیں۔ معمولی ملازمتوں میں بھی کرپشن اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ ملازم اور ملزم میں فرق مٹتا دکھائی دیتا ہے۔ قانون کے رکھوالے خود بڑے مجرم بن چکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اپنے دوستوں اور دوسروں کو قانون توڑنے کے گر سکھاتے ہیں۔
کتاب کا نام ہے “ہاں، یہ سچ ہے”۔ میں نے یہ کتاب دیکھی ہے اور گھمن صاحب کو ذاتی طور پر جانتا بھی ہوں۔ بیوروکریسی اور صحافتی حلقوں سے وابستہ کئی افراد نے بھی ان کے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔ میں اپنے اللہ، اپنے دل اور اپنے قلم کی گواہی میں کہتا ہوں کہ اس کتاب میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ پورا کا پورا، حرف بہ حرف سچ ہے۔اتنے کڑوے سچ کو اتنے سلیقے اور قرینے سے بیان کرنا آسان کام نہیں۔ گھمن صاحب نے جراتِ اظہار کو اپنا اسلوب بنایا ہے۔ وہ دلیر بھی ہیں اور اہلِ دل بھی۔ اٹل بھی ہیں اور اصول پسند بھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اُن کے عملی کیریئر سے کم شاندار نہیں، بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ اثر انگیز ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں کن کن طریقوں اور کن کن سلیقوں سے کرپشن کی جاتی ہے۔ بدعنوانی جیسے ایک باقاعدہ نظام بن چکی ہو۔ اسے جس سادگی اور آسودگی کے ساتھ مصنف نے قلم بند کیا ہے وہ قابلِ ذکر بھی ہے اور ناقابلِ فراموش بھی۔یہ ایسی کتاب ہے جسے اگر ہم دل و جان سے پڑھیں اور پھر اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں تو ہماری تقدیر بدل سکتی ہے۔ کتابیں اور خواب جب کسی انقلاب کی آرزو میں ڈھل جائیں تو کمال ہو جاتا ہے۔ ایک کمال تو گھمن صاحب نے کر دکھایا، باقی کمال کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔جو شخص سر تا پا کرپشن کے خلاف ہو، وہی ایسی کتاب لکھ سکتا ہے جیسی برگیڈیئر محمد اسلم گھمن نے لکھی ہے۔ کرپشن زدہ معاشرے میں ایسا آدمی بھی موجود ہے جس کے لباس اور کردار پر کوئی داغ نہیں۔ انہوں نے ہمیں بے چین بھی کیا ہے اور حیران بھی۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارے گرد و پیش میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔
گھمن صاحب نے ہمیں معاشرے کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔ ایک آئینہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ آئین پوری قوم کا آئینہ ہوتا ہے، مگر ہم نے اس آئینے کو بار بار توڑا ہے۔ کمال یہ ہے کہ انہوں نے ٹوٹے ہوئے آئینے کی ہر کرچی کو جوڑ کر ایک مکمل آئینہ بنا دیا ہے اور ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔آج اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے، اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا منظر ہے۔ محروم اور مظلوم طبقہ ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ لیکن اسلم جیسے لوگ بھی ہمارے درمیان موجود ہیں — یہ امید کی ایک چنگاری ہے۔

احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر یاد آتا ہے:

حیراں ہوں کہ وار سے کیسے بچا ندیمؔ
وہ شخص تو غریب و ضعیف انتہا کا تھا

اللہ گھمن صاحب کو سلامت رکھے۔ ایسے لوگ قومی سلامتی کی حقیقی علامت ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی(کالم نگار)

لنک: Haan Yeh Sach Hai | ہاں یہ سچ ہے — Toobaa Book Foundation

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top