سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش
میں ایک ایسے معاشرے کا فرد ہوں جہاں امیر کی بکواس بھی غور سے سنی جاتی ہے اور غریب کی چیخ و پُکار پر کان نہیں دھرے جاتے۔ جہاں سٹیٹس سمبل عزت کا استعارہ ہے۔ آئی فون، ویگو، فارچونر و پراڈو کھوکھلے لوگوں کو معتبری کی سند ہے۔اس قدر حبس بھرا ماحول ہے کہ سانس لینے کو اپنے اطراف کی آکسیجن خود پیدا کرنا پڑتی ہے۔ میں فارچونر یا پراڈو یا ریوو لے سکتا ہوں مگر نہیں لی اور نہیں لوں گا۔ مجھے اس کلچر کا حصہ نہیں بننا جس کا ہر وڈیرہ، بدمعاش ،سیاسی ایلیٹ، ٹچے کاروباری وغیرہ وغیرہ حصہ ہیں۔ ڈھائی سال قبل چاؤ سے رینج روور امپورٹ کروا لی تھی۔مجھے عالمی ادارے میں ہونے کے سبب ایک گاڑی صفر ٹیکس کے ساتھ یعنی ٹیکس فری درآمد کرنے کی سہولت تھی۔ میں دو ماہ گزار سکا اور میں بیزار ہو گیا۔ وہ ایک الگ قسم کا سٹیٹس سمبل […]
سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش مزید پرھیں