610 کلو کا مسکراتا ہوا انسان
2013ء میں سعودی نوجوان خالد بن محسن الشاعری دنیا کے سب سے بھاری انسان کے طور پر منظرِ عام پر آیا۔ اس کا وزن تقریباً 610 کلوگرام تک پہنچ چکا تھا، مطلب 70 کلو وزن کے 8 صحت مند افراد کے برابر وزن۔ اتنا زیادہ کہ وہ نہ چل سکتے تھے، نہ آزادانہ سانس لے سکتے تھے اور برسوں تک اپنے بستر تک محدود زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ وہ ہلنے جلنے سے مکمل طور پر قاصر تھا۔ ہر دن ان کے لیے ایک نئی جنگ تھا، ہر سانس ایک چیلنج اور ہر لمحہ آزمائش۔
اس کی اس تکلیف دہ زندگی کے بارے میں جب سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز کو پتہ چلا تو انہیں بڑا ترس آیا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اس کے علاج کا فیصلہ کیا۔ خالد کو ایک نہایت پیچیدہ اور سنجیدہ آپریشن کے لیے کنگ فہد میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا، یہ منتقلی بھی باقاعدہ کرینوں کے ذریعے سے ہوئی تھی۔ اس وقت ہم نے ویڈیو بھی شیئر کی تھی۔ بہرحال کنگ فہد اسپتال میں اس کے معدے کا بائی پاس آپریشن کیا گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا ایک طویل اور مشکل سفر۔ سخت غذائی نظام، مسلسل طبی نگرانی اور طویل بحالی کا عمل۔ یہ ایک عام علاج نہیں، بلکہ صبر، حوصلے اور ارادے کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔
خالد بن محسن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی لڑائی اپنے اندر سے لڑی۔ 4 برس کی محنت کے بعد اس نے حیرت انگیز طور پر 542 کلوگرام وزن کم کیا اور اس کا وزن گھٹ کر صرف 63 کلوگرام رہ گیا۔ وہ شخص جو کبھی بستر سے ہل بھی نہیں سکتا تھا، دوبارہ پیروں پر کھڑا ہونے، چلنے پھرنے، اور معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہو گیا۔
خالد کا یہ سفر سعودیہ میں امید، حوصلے اور انسانی ہمدردی کی زندہ مثال بن گئی۔ اس کی مسکراہٹ ایک طاقتور پیغام کہ چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر ارادہ مضبوط ہو اور ہاتھ تھامنے والا موجود تو انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودیہ میں خالد “مسکراتا ہوا انسان” کے نام مشہور ہوگیا ہے۔ حوصلے، صبر اور استقامت کی علامت۔
لہٰذا کبھی بھی ہمت نہ ہاریں۔ مشکل حالات ہمیشہ مستقل نہیں رہتے۔ حوصلہ، صبر، اور ارادے سے سب کچھ ممکن ہے اور سب سے اہم، انسانی ہمدردی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے اور 542 کلو اضافی چربی تحلیل ہوسکتی ہے۔ (ضیاء چترالی)
خالد الشاعری، پہلے اور اب۔ کوئی بھی یقین نہیں کرتا کہ یہ دبلا پتلا اسمارٹ نوجوان وہی 610 کلو کا خالد شاعری ہے۔

