یونین کونسل سوہن کے نگینے لوگ

یونین کونسل سوہن کے نگینے لوگ
خطۂ پوٹھوار کی سرزمین ہمیشہ سے علم، ادب اور شعور کی امین رہی ہے۔ اسی دھرتی نے ایسے نابغۂ روزگار افراد کو جنم دیا جو اہلِ علم، اہلِ ذوق اور اہلِ دل کے لیے چراغِ راہ ثابت ہوئے۔ یونین کونسل سوہن بھی ایسی ہی بے مثال شخصیات کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کے نامور شاعر، ادیب، دانشور، نقاد، استادِ اساتذہ اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک لوگ محبت، خلوص اور چاہت کے بے باک پیکر تھے۔
وہ شاعر بھی تھے، دانشور بھی؛ استاد بھی تھے اور خطیب و مقرر بھی۔ مشرق و مغرب کے قدیم و جدید علوم پر ان کی گہری دسترس تھی۔ انگریزی ادب، بالخصوص ملٹن اور شیکسپئیر سے خصوصی شغف رکھتے تھے، جبکہ اسلامی تاریخ اور فکری و اصلاحی تحریکات پر ان کی نظر نہایت گہری تھی۔ یوں وہ بلاشبہ علومِ شرق و غرب کا حسین امتزاج اور علم و فکر کا جیتا جاگتا مرقع تھے۔ ان کا نمونۂ کلام اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ ایک صاحبِ علم اور صاحبِ فکر انسان تھے۔
قحط الرجال کے اس دور میں ایسی شخصیات کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں، اور ان کا دنیا سے رخصت ہو جانا بالعموم انسانیت اور بالخصوص اہلِ علاقہ کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے اور ان کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آمین۔
آج ہم آپ کو یونین کونسل سوہن کے نواحی گاؤں سمبلی سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی ہی بندۂ خدا سے متعارف کروا رہے ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ باوا نواز آتش رحمۃ اللہ علیہ ایک ہمہ جہت، درویش صفت اور علم دوست شخصیت تھے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو ان کی عظمتِ کردار اور وسعتِ فکر کا مکمل احاطہ کر سکیں، بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ایسے نایاب ہیرے بہت خوش نصیب لوگوں اور اہلِ ادب کو ہی نصیب ہوتے ہیں۔
یہ ہمارے علاقے کی خوش بختی تھی کہ اسلام اور تاریخ سے شعور عطا کرنے والی یہ عظیم ہستی سملبی جیسی بابرکت سرزمین میں پیدا ہوئی۔ باوا نواز آتش رحمۃ اللہ علیہ نے شاعری کے ذریعے دین و دنیا کی ترجمانی کی اور اس میدان میں متعدد گراں قدر کتب تصنیف کیں۔ ان کے وصال کے ساتھ ہی اہلِ علم و ادب کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، اور ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس کا پُر ہونا شاید مدتوں ممکن نہ ہو۔آپ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی اسکول ٹیچر بھی تھے۔ انہوں نے اپنے علاقے کے طلبہ کو علم کی روشنی سے منور کیا اور لوگوں کی روحانی تربیت نہایت خوش اسلوبی سے کی۔ سملبی گاؤں ہی نہیں بلکہ پوری یونین کونسل سوہن کے لیے وہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے۔ وہ لوگوں میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنے والے، محبت اور خلوص کے پیامبر تھے۔ جہاں بھی جاتے، لوگوں کا ہجوم ان کے گرد جمع ہو جاتا۔ انہوں نے ہمیشہ امن، بھائی چارے، محبت اور باہمی احترام کا درس دیا۔
ان کے دونوں صاحبزادے، بلال نواز اور حبیب نواز، نہایت خوش اخلاق اور باکردار انسان ہیں۔ ان سے ملاقات ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے باوا نواز آتش رحمۃ اللہ علیہ کی جھلک نظر آ رہی ہو۔ آپ اپنے گاؤں اور ضلع کی پہچان تھے۔ آپ نے بے شمار نوجوانوں کو ادب سے روشناس کرایا، اور آپ کے لاتعداد شاگرد آج بھی موجود ہیں جن کی شاعری پڑھ کر باوا نواز آتش رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ شاگرد آج بھی انہیں دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔
باوا نواز آتش رحمۃ اللہ علیہ نہایت مہمان نواز تھے۔ جو ایک بار ان کی صحبت میں بیٹھ جاتا، اس کا واپس جانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ وہ ہمیشہ حق اور سچ کی تلقین فرماتے، علاقے کے لوگوں کی خصوصی قدر کرتے اور ہر ممکن تعاون کرتے۔ خوش اخلاقی، دیانت اور اعلیٰ کردار ان کی پہچان تھی۔اللہ ربّ العزت ان کے لیے حشر و قبر کی تمام منازل آسان فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ان کے لواحقین کو ان کے اسلاف کی سچی تقلید کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا ربّ العالمین۔

شاعر محمد نواز آتش رخمتہ اللہ علیہ
(نعت رسول مقبول)
ہتهیں کر کے آباد ویرانیاں نوں تتیاں ریتاں نوں کر گلزار دتا
جوہری پتهر نوں بخشی جلا ایسی کرکے شیشہ وچ رکھ بازار دتا
حق دے راہی نے ازل دے بهلیاں نوں پل صراط تهیں پل وچ گزار دتا
آتش اس تے درود و سلام لکهاں جس نے خزاں نو ں رنگ بہار دتا
شاعر نواز آتش (نعت رسول مقبول)
انسانیت دےسینےجو چبهدے سن انهاں خاراں دا زہر اتار دتا
اپنے دست کریم دے نال دهو کے آدمیت دا چہرہ نکهار دتا
ساری نفرت محبت وچ بدل کے تے سینہ سڑیاں نوں صبر و قرار دتا
آتش اس تے درود و سلام لکهاں جس نے خزاں نوں رنگ بہار دتا

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top