جرمنی کی 2025 کی پولیس کرائم سٹیٹسٹکس (PKS) اور وفاقی پولیس (BKA) کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ ملک

میں مجموعی جرائم میں معمولی کمی کے باوجود پرتشدد اورسنگین جرائم کے زمرے میں غیر ملکی شہریوں کی شمولیت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ جرمنی کی کل آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب صرف 15 سے 16 فیصد ہے، لیکن پرتشدد جرائم جیسے قتل اور ڈکیتی میں مشتبہ افراد کا تقریباً 40 سے 50 فیصد غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔
اس میں سب سے پہلے شام کا ذکر آتا ہے جو کہ جرمنی میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی شہریوں میں جرم کی شرح مقامی جرمنوں کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہ زیادہ تر منشیات کی اسمگلنگ، چوری اور جسمانی حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کی آبادی میں نوجوان مردوں کا زیادہ ہونا اور جرمن معاشرے میں ان کا صحیح طرح ضم نہ ہونا قرار دیا گیا ہے۔
دوسرے نمبر پر افغانستان کے شہریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے کیونکہ ان میں جرم کی شرح جرمن شہریوں سے 14 گنا زیادہ ہے۔ افغان مشتبہ افراد خاص طور پر جنسی جرائم اور چاقو کے حملوں میں بہت زیادہ ملوث پائے گئے ہیں اور 2025 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کے کیسز میں ان کا تناسب ان کی چھوٹی سی آبادی کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔ اس رجحان کی بڑی وجوہات میں ان کا عارضی قانونی اسٹیٹس (Duldung) اور خواتین کے حوالے سے مختلف سماجی رویے شامل ہیں۔
تیسرے نمبر پر ترکی کے شہری آتے ہیں جن کی جرمنی میں ایک طویل تاریخ ہے، لیکن حالیہ ڈیٹا کے مطابق ان کی شمولیت منظم جرائم یعنی آرگنائزڈ کرائم، منی لانڈرنگ اور گینگ وار میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔ پناہ گزینوں کے برعکس ان کے جرائم کی نوعیت زیادہ تر مالی اور گروہی جھگڑوں پر مبنی ہے۔ چوتھے بڑے گروپ کے طور پر عراقی شہریوں کا نام آتا ہے جو زیادہ تر جائیداد کے خلاف جرائم، بڑی چوریوں اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس چلانے میں ملوث پائے گئے ہیں اور وفاقی پولیس انہیں “ہائی رسک” گروپس میں شمار کرتی ہے۔
پاکستانی شہریوں کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ جرمنی کی آبادی کا تقریباً 0.2 فیصد ہیں اور ان کی اکثریت آئی ٹی اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے، لیکن رپورٹ میں کچھ منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی شہریوں کا نام جنسی جرائم کے زمرے میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ دیکھا گیا ہے، یعنی کم آبادی ہونے کے باوجود ان کیسز میں مشتبہ افراد میں ان کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی پناہ گزینوں کا ایک چھوٹا حصہ لڑائی جھگڑوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی یعنی ویزا ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔یاد رہے جرمنی میں غیر قانونی طور پر رہنا بھی جرم ہے اس لئے پاکستانی اس جرم میں ملوث پاۓ گے.مجموعی طور پر وہ باقی ممالک سے بہت بہتر ہیں- تاہم اگر شام اور افغانستان سے موازنہ کیا جائے تو پاکستانیوں کی مجموعی پرتشدد جرائم میں شمولیت کی شرح کافی کم ہے اور وہ جائیداد کی چوری یا ڈکیتی جیسے جرائم میں بھی بہت کم ملوث پائے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے بعد جرمن حکومت اب انغیر ملکیوں کو تیزی سے ملک بدر کرنے پر کام کر رہی ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں یا جو کسی سنگین جرم میں ملوث پائے گئے ہیں۔

