مایا امریکہ کی قدیم تہذیب

دنیا کے گھنے جنگلات میں آج بھی ایسی پراسرار جگہیں موجود ہیں جن کے راز ہزاروں سال گزرنے کے باوجود پوری طرح سامنے نہیں آ سکے۔انہی میں سے ایک حیرت انگیز مقام بیلیز (Belize) کے گھنے جنگلات میں واقع قدیم مایا شہر لامانائی (Lamanai) ہے، جہاں ایک ایسا مندر موجود ہے جو اپنی دیوہیکل پتھریلی انسانی شکلوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس مندر کو آج “ماسک ٹیمپل” (Mask Temple) کہا جاتا ہے۔
لیکن پہلے یہ جان لیجیے کہ مایا لوگ کون تھے؟
مایا تہذیب قدیم وسطی امریکا کی ایک نہایت ترقی یافتہ تہذیب تھی، جو آج کے میکسیکو، گوئٹے مالا، بیلیز، ہونڈوراس اور ایل سلواڈور کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہ لوگ صرف جنگلوں میں رہنے والی کوئی عام قوم نہیں تھے، بلکہ فلکیات، ریاضی، کیلنڈر، تحریر، زراعت، تجارت، عبادت گاہوں اور شاندار تعمیرات میں حیران کن مہارت رکھتے تھے۔
مایا لوگ ستاروں کی حرکت کو نوٹ کرتے تھے، موسموں کا حساب رکھتے تھے، عبادت گاہیں بناتے تھے، مکئی، پھلیاں اور کوکو اگاتے تھے، اور بڑے بڑے شہروں میں منظم زندگی گزارتے تھے۔ ان کے ہاں بادشاہ، مذہبی پیشوا، کاریگر، کسان، تاجر اور جنگجو سب اپنے اپنے کردار ادا کرتے تھے۔
اسی تہذیب کا ایک اہم شہر لامانائی تھا۔
اس کی سیڑھیوں کے دونوں جانب چونے کے پتھر سے تراشے گئے تقریباً 13 فٹ بلند دو عظیم الشان چہرے نصب ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مایا تہذیب کے زیادہ تر مندروں پر بنائے گئے چہرے پلستر (Stucco) سے تیار کیے جاتے تھے، لیکن یہاں یہ دیوقامت چہرے ٹھوس پتھر سے تراشے گئے، جس کی وجہ سے یہ اپنی نوعیت کی نہایت نایاب مثال سمجھے جاتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ لامانائی مایا تہذیب کے ان چند شہروں میں شامل تھا جہاں مسلسل تقریباً تین ہزار سال تک انسانی آبادی موجود رہی۔ ہر نئی نسل نے پرانے مندر کو گرانے کے بجائے اس کے اوپر نیا مندر تعمیر کیا، یوں آج بھی موجودہ عمارتوں کے نیچے کئی قدیم مندر دفن ہیں جو شاید اب تک کسی نے نہیں دیکھے۔لیکن سب سے بڑا معمہ ان دیوقامت پتھریلے چہروں کی شناخت ہے۔
آج تک کوئی تحریر یا کتبہ دریافت نہیں ہو سکا جو یقین کے ساتھ بتا سکے کہ یہ کس کی تصویر ہیں۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی قدیم مایا حکمران کے چہرے ہیں، جبکہ دوسرے ماہرین انہیں مگرمچھ سے وابستہ ایک طاقتور دیوتا کی علامت قرار دیتے ہیں، کیونکہ “لامانائی” کے نام کا تعلق بھی قدیم زبان میں مگرمچھ سے جوڑا جاتا ہے۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ مایا لوگوں کے نزدیک جانور صرف جانور نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان کے ساتھ روحانی اور مذہبی معنی جڑے ہوتے تھے۔ مگرمچھ، سانپ، جگوار اور پرندے ان کے عقائد میں طاقت، پانی، زمین، آسمان اور روحانی دنیا کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ابھی تک ان نظریات میں سے کسی کی بھی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔اسی لیے یہ مندر صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے ان حل طلب رازوں کی وجہ سے بھی دنیا بھر کے ماہرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔
کون جانتا ہے کہ اس عظیم الشان پتھریلے ڈھانچے کے نیچے ابھی کتنے مندر، کتنی نایاب اشیاء اور کتنی ایسی کہانیاں دفن ہیں جو ہزاروں سال سے انسانوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ شاید مستقبل کی کوئی کھدائی ان رازوں سے پردہ اٹھا دے، یا پھر یہ اسرار آنے والی کئی نسلوں تک اسی طرح خاموش رہیں۔
دعا کا طالب محمد عظیم حیات ،لندن
References:
• Archaeology Magazine
• Belize Institute of Archaeology
• National Geographic
• Research reports on the Lamanai Archaeological Reserve

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top