“خان” کے لقب کی غلط تعبیر؛ ایک پروٹو- پشتون کے آباؤ اجداد یعنی East iranic مشرقی ایرانی وراثت؛
خان کے لقب کی غلط تعبیر؛ ایک پروٹو- پشتون کے آباؤ اجداد یعنی East iranic مشرقی ایرانی وراثت؛
واک مند افغان/Zwāk Mand Afġān
یہ عام تصور کہ لقب «خان» ایک منگولی النسل ہے، دراصل ایک تاریخی سادہ کاری (oversimplification) ہے جو لسانی، تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی۔ جدید لسانی تحقیق، خصوصاً Dybo (2007) اور Savelyev & Jeong (2020) کے مطالعات، اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ وہ بہت سے القاب جنہیں بعد میں منگولوں سے منسوب کیا گیا، دراصل وسطی ایشیا کی قدیم ایرانیک، آریائی مشرقی ایرانی النسل East iranic یا پشتون کے آباؤ اجداد کے تہذیبوں سے اخذ شدہ تھے۔
وسطی ایرانیک-اريائی یا پروٹو- پشتنوں کے اباو اجداد Proto pashtun زبانوں میں لفظ hva-kama- کے معنی «خود مختار حکمران» یا «شہنشاہ» کے ہیں۔ اسی طرح سغدی زبان زبان جو پشتون کے آباؤ اجداد یا East iranic زبان ہے اس میں« xwt’w »(حاکم) اور «xwt’yn» (حاکم کی زوجہ) جیسے الفاظ اسی ایرانی لسانی جڑ سے نکلتے ہیں، جن کا تعلق ابتدائی ساکائی- سکائی لفظ hvatuñ سے ہے، وہ زبان کا کے حوالے سے عظیم جارج مارگنسٹین نے کہا تھا کہ ایک طرف پشتو زبان اوستا زبان کے انتھائی نزدیک ہے لیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائیں ایسا لگتا ہے کہ پشتو « ساکا saka » زبان کا لھجہ ہے تو اسی سکائی زبان لفظ hvatuñ کے معنی «سردار» یا «فرماں روا» کے ہیں۔ یہ تمام الفاظ منگولی ریاستوں کے ظہور سے کئی صدیاں پہلے موجود تھے، جو اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ وسطی ایشیا کی سیاسی و حکمرانی اصطلاحات پہلے ہی گہری آريايې، east iranic خصوصیات کی

حامل تھیں۔
چنگیز خان کی سلطنت سے بہت پہلے، وسطی ایشیا کے ایرانی و ہند-ایرانی (آریانی-آریانا) اقوام (پشتنوں کے آباؤاجداد) نے اقتدار اور خود مختاری کی نمائندگی کرنے والے القابات کا ایک ترقی یافتہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ معروف مؤرخ علامہ عبدالحي حبیبی کے مطابق، چھٹی صدی عیسوی کے بعد “ابدالی-ابدولو” ہپتالی (جنہیں ابدالی پشتون ہن بھی کہا جاتا ہے) نے پشتون قبائل کے اتحاد کے ساتھ لقب «خان» کو برصغیر تک متعارف کرایا۔ وسطی ایشیا کی صوتی روایت میں «خ» اور «ہ» کی باہمی تبدیلی کے باعث «ہان» اور «خان» جیسی صورتیں وجود میں آئیں، بغیر اس کے کہ اس میں کسی منگولی اثر کا دخل ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ «خان» منگول فتوحات سے بہت پہلے افغان-اريائی-اریانہ النسل خطوں میں اقتدار کا ایک مستند لقب تھا۔
منگولوں کی جانب سے “خان” کے استعمال کو دراصل ایک وسیع تر تہذیبی و لسانی اخذ (borrowing) کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح فارسی زبان منگول سلطنت کی دفتری و انتظامی lingua franca بن گئی تھی، اسی طرح «خان» بھی ایرانیک- عظیم آریائی دنیا جسکا مرکزی خطہ آریانا افغانستان تھا اسی کی النسل ریاستوں اور تہذیبوں سے وراثت میں ملنے والا ایک باوقار سیاسی لقب تھا۔ لہٰذا یہ منگولوں کی اختراع نہیں بلکہ ان آریائی-آریانیک-ایرانیک ریاستوں اور قبائلی اتحادوں کی سیاسی میراث کا حصہ تھا جنہوں نے صدیوں تک وسطی ایشیا کے میدانوں پر حکمرانی کی۔
لسانی، تاریخی اور صوتی شواہد اس نتیجے کو ناگزیر بنا دیتے ہیں کہ “خان” ایک مقامی مشرقی ایرانی East iranic پشتون کے آباؤ اجداد کے لقب ہے جس کی جڑیں وسطی ایشیا کی سیاسی ثقافت میں گہری پیوست ہیں۔ منگولوں نے اسے ایجاد نہیں کیا بلکہ ان پشتنوں کے آباؤاجداد اقوام سے اخذ کیا جو ان کے عروج سے بہت پہلے ان میدانوں کی مالک تھیں۔ “خان” کو اس کی حقیقی تاریخی نسبت کی طرف واپس لانا نہ صرف ایک دیرینہ تاریخی تحریف کی اصلاح ہے بلکہ مشرقی ایرانی سیاسی شناخت کی ایک اہم علامت کی بازیافت بھی ہے۔
مزید برآں، پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں جب منگول ہماری سرزمین کے قریب بھی موجود نہ تھے تو پشتون کے قبائل کے کنفیڈریشن کے طور پر ابڈالوں-ابدالی- ہپتالی، کیداریت اور کوشانی سلطنتیں یہاں عروج پر تھیں۔ اس دور کے سکے، جن پر ان حکمرانوں کی تصاویر ثبت ہیں، منگولی خد و خال نہیں بلکہ اعلیٰ آریانی اقوام کے نمایاں (پشتنوں) اور باوقار نقوش پیش کرتے ہیں۔ ہماری اور دیگر محققین کی تحقیقات کے مطابق، ایرانی-آریانی- اریائی “ہن” اقوام کا ترک یا منگول نسل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انکا تعلق دراصل پشتون اور یہی ہپتالی دراصل پشتون کے موجودہ ابدالی نسل تھے، اور آج بھی ان کا قدیم نام ابدالی، ابدولو اور ابدال جیسے نسلی ناموں میں محفوظ ہے۔پانچویں اور چھٹی صدی کے پشتون ابدالی-ہپتالی حلقوں میں ہمیں «خنگیلا»،« شاہ گل»، «شین گل »اور «خان» جیسے نام ملتے ہیں۔ یہ سب خالص مقامی اور قدیم نام ہیں، جن کا منگولوں سے کوئی تعلق نہیں۔
