تھوہا خالصہ 1947  جب پوٹھوہار کا دل خون سے رنگ گیا۔

تھوہا خالصہ 1947  جب پوٹھوہار کا دل خون سے رنگ گیا۔
پوٹھوہار اور راولپنڈی شہر میں مذہبی کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب مارچ 1947 میں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر ہونے والے سیاسی احتجاج کے دوران ماسٹر تارا سنگھ نے تلوار لہرا کر مسلم لیگ کے خلاف نعرے بازی کی اور مسلم لیگ کا پرچم ہٹا دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پنجاب کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی کشمکش پہلے ہی اپنے عروج پر تھی۔ اس کے بعد پورے پنجاب، خصوصاً راولپنڈی ڈویژن میں فرقہ وارانہ جذبات مزید بھڑک اٹھے۔
جیسا کہ ہم اپنی پچھلی تحریروں میں ذکر کر چکے ہیں، پوٹھوہار ایک کثیرالمذاہب معاشرہ تھا۔ مسلمان، سکھ، ہندو اور عیسائی ایک ہی محلوں میں رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا، خوشی غمی میں شرکت، مشترکہ کاروبار اور گہری دوستیاں معمول کی بات تھیں۔ کئی خاندان نسلوں سے ایک ہی گاؤں اور قصبوں میں آباد تھے، اسی لیے مذہبی اختلاف کے باوجود سماجی رشتے مضبوط تھے۔
اس پرامن معاشرے میں پہلی بڑی دراڑ 1926 کے راولپنڈی جامع مسجد تنازع کے بعد پڑی، جب مسلمان اور سکھ پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر آمنے سامنے آئے۔ اس فساد میں دونوں جانب جانی و مالی نقصان ہوا۔ اگرچہ ہندو براہِ راست اس تنازع کا حصہ نہیں تھے، لیکن راجہ بازار میں ان کی کئی دکانیں بھی نذرِ آتش ہوئیں، جس کے بعد ہندو اور سکھ ایک دوسرے کے مزید قریب آ گئے۔ انگریز حکومت نے کرفیو نافذ کر کے وقتی طور پر حالات پر قابو تو پا لیا، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی تلخی ختم نہ ہو سکی۔ بظاہر امن بحال ہو گیا، لیکن بداعتمادی کی چنگاریاں اندر ہی اندر سلگتی رہیں۔
مارچ 1947 میں سیاسی کشیدگی، اشتعال انگیز تقاریر، افواہوں اور انتقامی جذبات نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ چند ہی دنوں میں یہ کشیدگی فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہو گئی اور راولپنڈی ڈویژن کے دیہات اس آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ سب سے زیادہ خونریزی راولپنڈی کے نواحی علاقوں میں ہوئی، جہاں متعدد دیہات میں سکھ آبادی اقلیت میں تھی۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے خاندان مالی طور پر خوشحال تھے، لیکن تعداد کم ہونے کی وجہ سے وہ بڑے مسلح حملوں کا زیادہ دیر مقابلہ نہ کر سکے۔
انہی دیہات میں تھوہا خالصہ بھی شامل تھا، جو اس وقت سکھ برادری کا ایک خوشحال اور اہم قصبہ سمجھا جاتا تھا۔ جب اردگرد کے دیہات سے حملوں کی خبریں پہنچیں تو مقامی سکھ رہنما سردار گلاب سنگھ نے قصبے کے تمام سکھ اور ہندو خاندانوں کو اپنی وسیع حویلی اور گردوارے میں جمع ہونے کی دعوت دی۔ مضبوط دروازوں کو لوہے کی سلوں سے بند کر کے حویلی کو ایک عارضی قلعے کی شکل دے دی گئی۔ کئی دن تک محصور افراد نے نہایت بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ خوراک اور گولہ بارود ختم ہونے لگا۔
روایات کے مطابق ایک مرحلے پر جان و مال کے تحفظ کے لیے حملہ آوروں سے مالی ادائیگی کے بدلے ایک معاہدہ کیا گیا، مگر رقم وصول کرنے کے باوجود معاہدہ توڑ دیا گیا اور حویلی پر آخری حملہ کر دیا گیا۔ اس خونریز معرکے میں تقریباً دو سو سکھ مرد لڑتے ہوئے مارے گئے۔
حویلی کا دفاع ختم ہونے کے بعد خواتین نے محسوس کیا کہ اب انہیں اغوا، جنسی تشدد یا جبری مذہب کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روایت کے مطابق سردارنی سنت کور اپنے بچوں سمیت سب سے پہلے حویلی کے صحن میں موجود کنویں میں کودیں۔ ان کے بعد 90 سے زائد سکھ خواتین اور بچیوں نے بھی یکے بعد دیگرے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی جانیں قربان کر دیں۔ تقسیمِ ہند کی تاریخ میں یہ اجتماعی خودکشی کے سب سے المناک واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔
اس قتلِ عام کے بعد زندہ بچ جانے والے سکھ اور ہندو خاندانوں کو برطانوی فوج کے ٹرکوں میں بٹھا کر واہ کیمپ منتقل کر دیا جو آج کے واہ کینٹ کے مقام پر قائم ایک عارضی پناہ گزین کیمپ تھا۔ اس وقت وہاں ہر طرف خوف، بے بسی اور بچھڑنے کی داستانیں تھیں۔ تھوہا خالصہ کے سابقہ رہائشی بھنڈرا سردار موہن سنگھ نے بعد میں اپنی یادداشتوں میں بتایا کہ اس ہنگامے میں کسی کو کسی کی خبر نہیں تھی۔ ماں کو اپنے بچوں کا علم نہیں تھا، باپ اپنی بیوی اور اہلِ خانہ سے بچھڑ چکا تھا۔ جسے جس فوجی گاڑی یا ٹرک میں جگہ ملی، وہ اسی پر سوار ہو گیا۔ پورے علاقے میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ کون زندہ ہے اور کون بچھڑ گیا ہے۔
واہ کیمپ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد برطانوی حکومت نے ان پناہ گزینوں کو مرحلہ وار خصوصی ٹرینوں کے ذریعے مشرقی پنجاب (بھارت) منتقل کرنا شروع کیا، جہاں انہوں نے نئی زندگی کا آغاز کیا، لیکن اپنے آبائی گھروں، کھیتوں، گردواروں اور اپنے پیاروں کی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔
تھوہا خالصہ کا یہ کنواں آج بھی اس دردناک سانحے کی خاموش گواہی دیتا ہے اور ہر سال دنیا بھر سے سکھ یاتری یہاں آ کر ان خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس سانحے کی خبر پورے برصغیر میں پھیل گئی۔ بعد ازاں برصغیر کے آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن نے تھوہا خالصہ کا دورہ کیا، تباہ شدہ حویلی اور کنویں کا معائنہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ یہ حقیقت ہے کہ مارچ 1947 کے راولپنڈی فسادات نے برطانوی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
پوٹھوہار سے ہجرت کر کے مشرقی پنجاب پہنچنے والے پناہ گزینوں کی المناک داستانوں نے وہاں بھی انتقامی جذبات کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں اگست 1947 کے دوران مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے۔ یوں نفرت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں دونوں طرف لاکھوں بے گناہ انسان لقمۂ اجل بنے اور کروڑوں افراد ہمیشہ کے لیے اپنے آبائی گھروں سے محروم ہو گئے۔
پوٹھوہار کبھی ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی آبادیوں کی مشترکہ تہذیب، باہمی احترام اور بھائی چارے کی علامت تھا۔ مارچ 1947 کے فسادات نے اس صدیوں پرانی تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔تاریخ ہمیں نفرت نہیں، سبق دیتی ہے۔ ان واقعات کو یاد رکھنے کا مقصد کسی قوم یا مذہب کے خلاف نفرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ جب تعصب، انتقام اور سیاست انسانیت پر غالب آ جائیں تو سب سے بڑی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔
تھوہا خالصہ 1947  جب پوٹھوہار کا دل خون سے رنگ گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top