دھان گلی: تاریخ، آثارِ قدیمہ، مقامی روایات اور تحقیقی جائزہ

دھان گلی: تاریخ، آثارِ قدیمہ، مقامی روایات اور تحقیقی جائزہ

دھان گلی دریاے جہلم پر بنا پل
دھان گلی دریاے جہلم پر بنا پل

دھان گلی، جو خطۂ پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کی سرحد پر دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ تاریخی اور تہذیبی اعتبار سے بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ علاقہ ضلع راولپنڈی کی تحصیل کلر سیداں اور آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال کے درمیان واقع ہے اور صدیوں سے دونوں خطوں کے درمیان ایک قدرتی رابطہ اور گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ آج اگرچہ اسے زیادہ تر ایک خوبصورت سیاحتی مقام، جدید پل اور دریائے جہلم کے دلکش مناظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے، لیکن تاریخی روایات اور مقامی آثار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماضی میں اس کی حیثیت محض ایک گزرگاہ کی نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی، تجارتی اور عسکری مرکز کی بھی رہی ہے۔

میری تحقیق کے مطابق دھان گلی کا علاقہ محض چند صدیوں پر محیط تاریخ نہیں رکھتا بلکہ یہاں ایک ایسی قدیم آبادی کے آثار موجود ہیں جو غالباً اس خطے کی معروف تاریخی روایات سے بھی پہلے کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ علاقے میں مختلف مقامات پر موجود کھنڈرات، قدیم بنیادیں، پتھروں کی ترتیب اور بکھرے ہوئے آثار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں کسی دور میں ایک منظم انسانی آبادی آباد تھی۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مقام پر آج تک آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ کھدائی یا سائنسی تحقیق نہیں کی گئی، جس کے باعث ان آثار کی اصل تاریخ اور تہذیبی وابستگی ابھی تک غیر واضح ہے۔

 

یہ بھی ایک قابلِ غور سوال ہے کہ اگر یہاں واقعی ایک بڑی آبادی موجود تھی تو وہ کس طرح ختم ہوئی؟ اس حوالے سے میری رائے یہ ہے کہ ممکن ہے یہ بستی کسی قدرتی آفت، مثلاً شدید زلزلے، سیلاب یا کسی بڑی جنگ اور انتقامی کارروائی کا شکار ہوئی ہو، جس کے نتیجے میں اس کی بیشتر عمارات تباہ ہوگئیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کے آثار مٹی تلے دب گئے۔ اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وقت کے ساتھ مقامی لوگوں نے انہی کھنڈرات کے پتھر دوسری تعمیرات میں استعمال کر لیے ہوں، جس کی وجہ سے قدیم عمارتوں کے صرف محدود آثار باقی رہ گئے ہوں۔

تاریخی روایات میں دھان گلی کو گکھڑ حکمرانوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق بارہویں صدی میں گکھڑ سردار راجر خان نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کروایا، جبکہ سلطان سارنگ خان گکھڑ کے دور میں اس قلعے کو مزید وسعت دی گئی اور شاہی ہاتھیوں کے لیے اصطبل بھی تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح شیر شاہ سوری کے دور میں دھان گلی کو سندھ ساگر دوآب کا ایک اہم پرگنہ قرار دیا گیا، جس کے زیرِ انتظام سینکڑوں دیہات تھے۔ ان حوالوں سے اس مقام کی سیاسی اور انتظامی اہمیت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

تاہم یہاں ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر دھان گلی واقعی گکھڑ حکمرانوں کا دارالحکومت یا اتنا بڑا عسکری مرکز تھا تو آج اس عظیم قلعے کے آثار نہایت محدود کیوں ہیں؟ اسی دور کے دیگر قلعے آج بھی نمایاں حالت میں موجود ہیں، لیکن یہاں صرف چند دیواریں یا ایک آدھ کمرے کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس روایت پر مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ صرف مقامی روایات یا زبانی بیانات کی بنیاد پر کسی مقام کو دارالحکومت قرار دینا تاریخی اصولوں کے مطابق کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے مضبوط آثارِ قدیمہ اور مستند تاریخی شواہد بھی درکار ہوتے ہیں۔

اسی طرح بعض کتابوں اور مقامی روایات میں “رانی منگو کے محل” یا “رانی منگو کے مقبرے” کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن میری تحقیق کے مطابق مستند تاریخی کتب میں “رانی منگو” نامی کسی شخصیت کا واضح ذکر نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس روایت کو فی الحال ایک مقامی داستان یا لوک روایت ہی سمجھا جانا چاہیے، جب تک اس کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد تاریخی حوالہ یا آثار سامنے نہ آجائیں۔

داؤد شاہ حقانی کے مزار سے کچھ فاصلے پر موجود کھنڈرات بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔  کسی کتاب میں راقم نے پڑھا تھا کہ  آریائی دور کا ایک مدرسہ تھا، جہاں ہندو مذہبی فلسفے کے مطابق دھیان، گیان، یوگ اور چکروں کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور مقصد  مسلمانوں کو ہندوں بنانا تھا بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس مرکز کا مقصد روحانی یا باطنی طریقوں کے ذریعے لوگوں کو ہندو مذہب کی تعلیم دینا تھا، جبکہ اسی نوعیت کا ایک اور مرکز موجودہ اسلام آباد کے مقام پر بھی موجود تھا۔

تاہم ایک محقق کی حیثیت سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ان دعوؤں کی تائید میں ابھی تک کوئی مستند تاریخی، آثارِ قدیمہ یا علمی ثبوت موجود نہیں۔ اس لیے ان روایات کو نقل ضرور کیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ موضوع مستقبل میں آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے ماہرین کے لیے تحقیق کا ایک اہم میدان بن سکتا ہے۔

دھان گلی کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بھی متعدد آراء موجود ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس کا اصل نام “دیو گلی” تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ تلفظ کی تبدیلی سے “دھان گلی” بن گیا۔ اس روایت کے مطابق ایک دیو یا خوفناک مخلوق اس علاقے کی ایک غار میں رہتی تھی، جسے بعد میں ایک بزرگ یا گکھڑ سردار نے شکست دی، اور جس راستے سے وہ نکلا وہ “دیو گلی” کہلایا۔ دوسری طرف بعض مقامی افراد اس نام کو “داند گلی” سے منسوب کرتے ہیں اور ان کے مطابق داؤد شاہ حقانی کے مزار کے نیچے ایک نہایت تنگ راستہ موجود تھا، جس کی تنگی کو دانتوں کے درمیان فاصلے سے تشبیہ دے کر “داند گلی” کہا گیا، جو بعد میں “دھان گلی” بن گیا۔ ایک اور رائے یہ ہے کہ پہاڑوں کے درمیان قدرتی دروں یا تنگ گزرگاہوں کو مقامی زبان میں “گلی” کہا جاتا ہے، اسی لیے نتھیا گلی، چھانگلہ گلی، باڑا گلی اور دھان گلی جیسے نام وجود میں آئے۔

اس مقام کی معاشی اہمیت بھی کم نہیں رہی۔ مقامی بزرگوں کے مطابق پوٹھوہار سے دھان اور گوجرخان کی اعلیٰ معیار کی گندم اسی راستے سے کشمیر بھیجی جاتی تھی، جبکہ کھیوڑہ کی نمک کی کانوں سے نکلنے والا نمک بھی اسی گزرگاہ کے ذریعے آگے منتقل ہوتا تھا۔ اس اعتبار سے دھان گلی صرف ایک عسکری یا دفاعی مقام نہیں بلکہ ایک اہم تجارتی راہداری بھی تھی۔

یہ تمام حقائق، روایات اور مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دھان گلی ایک غیر معمولی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے، لیکن بدقسمتی سے اس پر آج تک وہ تحقیقی توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ مستحق ہے۔ یہاں موجود آثار، کھنڈرات، قدیم راستے، قلعے کے نشانات، تاریخی مسجد اور مقامی روایات سب اس امر کے متقاضی ہیں کہ محکمہ آثارِ قدیمہ، جامعات اور تاریخ کے ماہرین اس علاقے کا باقاعدہ سروے کریں، سائنسی بنیادوں پر کھدائی کریں اور مستند تاریخی مصادر کی روشنی میں اس کی اصل تاریخ مرتب کریں۔

جب تک ایسی تحقیق سامنے نہیں آتی، دھان گلی کے بارے میں موجود معلومات کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ ایک وہ معلومات جن کی تائید تاریخی کتب اور دستاویزی شواہد سے ہوتی ہے، اور دوسری وہ روایات جو نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتی رہی ہیں۔ ایک ذمہ دار محقق کے لیے دونوں کے درمیان فرق برقرار رکھنا ہی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔ میری رائے میں دھان گلی کی اصل تاریخ ابھی لکھی جانی باقی ہے، اور امید ہے کہ مستقبل کی تحقیقات اس تاریخی مقام کے بہت سے پوشیدہ راز دنیا کے سامنے لائیں گی۔
وکی پیڈیا میں یہ معلومات درج ہیں
دھان گلی گگھڑ قوم کا فوجی ہیڈ کوارٹرتھا جہاں جنگلی ہاتھیوں کا بیلا تھا جو قلعہ نما جس کے آثار آج بھی موجود وہاں ہاتھیوں کے لیے ایک تالاب بھی بنایا گیا تھا جس کو آج پکہ بن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دانگلی کو پرگنہ کی حثیت حاصل تھی اور قاضی حسام الدین کو پرگنہ دانگلی کا قاضی مقرر کیا جس کی عدالت موجودہ قاضیاں میں تھی یہاں پر سید داؤد شاہ حقانی جن کا شمار اللہ کے برگزیدہ بندوں میں ہوتا ہے کا مزار مبارک بھی ہے آپ کا مزار بھی جناب قاضی حسام الدین صاحب نے بنوایا۔

دھان گلی پل،1980ء کی دہائی میں دریائے جہلم پر آزاد کشمیر کے ضلع میر پور کے لوگوں اور گاڑیوں کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ نیا پل 2010ء کی دہائی میں منگلا ڈیم کے منصوبے کی وسعت سے متاثرہ علاقے میں بحالی/آباد کاری کے حصے کے طور پر بنایا گیا تھا۔[1] یہ پل ایک ارب روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ تعمیر 2008ء میں شروع ہوئی اور مئی 2011ء میں مکمل ہوئی۔ اسے جون 2011ء میں استعمال کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ [2][3]

نیا دھان گلی پل 1,116 فٹ لمبا ہے۔ یہ پل ہر موسم اور تمام ٹریفک کی سہولت کے لیے ہے، اس کی تعمیر سے سفر کا وقت بہت کم ہوجاتا ہے اور اس میں دو لین ہیں اور سڑک کی چوڑائی 28 فٹ ہے۔ [4] پرانے پل میں صرف ایک لین تھی اور وزن کی حدود کی وجہ سے یہ صرف ایک گاڑی لے جانے کے قابل تھا۔
راقم الحروف(عقیل احمد قریشی) نے پرانے پل جو رسوں پر تھا اس پر سفر بھی کیا ہے آج سے کوئی چار پانچ سال قبل ادھر جانا ہوا تھا تو پرانا پل موجود ہو ممکن اب پانی میں ڈوب گیا ہو۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top