Alchemy of Mind Book by Syeda Durr-e-Shahwar Naqvi

Alchemy of Mind Book by Syeda Durr-e-Shahwar Naqvi
گزشتہ شام بلیک ہول اسلام آباد میں سیدہ درشہوار نقوی کی انگلش میں لکھی گئی کتاب Alchemy of Mind الکیمی آف مائنڈ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جن شرکاء محفل نے اس کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ان میں مصنفہ کے علاوہ جمشید اقبال، وقار احمد، عثمان قاضی اور حاشر ارشاد شامل ہیں سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا
جدید سائنس کائنات کی حقیقتوں کو کھنگال رہی ہے، اور تصوف انسان کے باطن اور روح کے اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے۔ بہت سے جدید مفکرین کے نزدیک، تصوف اور جدید سائنسی نظریات دونوں کائنات کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا (Interconnected) مانتے ہیں نیورو سائنس اور تصوف کے درمیان حیرت انگیز فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے کوانٹم تھیوری یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات الگ تھلگ ٹکڑوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط اور باہم جڑا ہوا نظام ہے، بالکل اسی طرح جیسے صوفیاء کائنات میں ایک ہی وحدت اور روحانی وجود کا مشاہدہ کرتے ہیں جدید فزکس کے مطابق، ذرات مشاہدے (Observation) سے پہلے لہروں کی صورت میں ہوتے ہیں اور شعور (Consciousness) حقیقت کو تشکیل دیتا ہے۔ یہ تصور تصوف کے اس بنیادی فلسفے سے ملتا جلتا ہے کہ کائنات کی حقیقت محض ایک روحانی شعور اور خالق کی جلوہ گری ہے البرٹ آئن اسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیویٹی (Theory of Relativity) کے مطابق وقت اور جگہ مطلق نہیں بلکہ نسبتی ہیں۔ تصوف بھی یہی سکھاتا ہے کہ مادی دنیا کا وقت ایک فریب ہے اور اصل حقیقت اس سے ماورا (Transcendental) ہے جدید سائنسی دور میں تصوف کو سائنسی اصولوں اور عقلی دلائل سے سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ آج کے ذہنی اور سائنسی انسان کی روحانی پیاس بجھائی جا سکے کئی اسکالرز اور صوفیاء جدید سائنسی دریافتوں کو روحانی تجربات کی توجیہہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور سائنسی علوم کو اسلامی اور عرفانی نظریات کے قریب لانے پر کام کر رہے ہیں۔
زیر نظر کتاب “Alchemy of Mind”
ماہر نفسیات Clinical Psychologist اور مصنفہ سیدہ درِ شہوار نقوی کی اسی موضوع پر تصنیف ہے ابھی مکمل کتاب کا مطالعہ نہیں کیا مگر سرسری انداز میں اگر موضوعات کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب جدید نیورو سائنس (Neuroscience) اور قدیم فلسفہ و تصوف کے درمیان ایک حسین اور گہرا امتزاج پیش کرتی ہے اس کتاب کا بنیادی تھیم (Core Theme) یا مرکزی خیال یہ سمجھنا ہے کہ ہمارا شعور (Consciousness) کیسے کام کرتا ہے۔ مصنفہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سائنسی حقائق اور روحانی تجربات الگ تھلگ نہیں ہیں، بلکہ یہ مل کر انسانی رویوں اور جذباتی گہرائی کو تشکیل دیتے ہیں کتاب کا آغاز انسانی دماغ (جیسے کہ نیوریکارٹیکس) کی سائنسی ارتقائی کہانی سے ہوتا ہے، لیکن یہ جلد ہی روحانی اور صوفیانہ ادراک کے سفر میں داخل ہو جاتی ہے کتاب میں بحث کی گئی ہے کہ کس طرح انسان اپنے لاشعور کو سمجھ کر اپنی ذہنی اور جذباتی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے، درِ شہوار نقوی نے ذہنی دباؤ اور جذباتی مسائل کا سامنا کرنے کے لیے جدید نفسیاتی طریقوں کو روحانی سوچ کے ساتھ جوڑا ہے یہ کتاب قاری کو اپنی اندرونی دنیا (Inner Life) اور بیرونی کائنات (Outer Cosmos) کے درمیان توازن قائم کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔کتاب پیچیدہ فلسفیانہ اور سائنسی نظریات کو آسان اور قابل فہم انداز میں عام قارئین تک پہنچانے کی ایک بہترین کوشش ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top