Author name: By Pothwar Nama

چھ سو دس کلو کا انسان

610 کلو کا مسکراتا ہوا انسان 2013ء میں سعودی نوجوان خالد بن محسن الشاعری دنیا کے سب سے بھاری انسان کے طور پر منظرِ عام پر آیا۔ اس کا وزن تقریباً 610 کلوگرام تک پہنچ چکا تھا، مطلب 70 کلو وزن کے 8 صحت مند افراد کے برابر وزن۔ اتنا زیادہ کہ وہ نہ چل سکتے تھے، نہ آزادانہ سانس لے سکتے تھے اور برسوں تک اپنے بستر تک محدود زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ وہ ہلنے جلنے سے مکمل طور پر قاصر تھا۔ ہر دن ان کے لیے ایک نئی جنگ تھا، ہر سانس ایک چیلنج اور ہر لمحہ آزمائش۔ اس کی اس تکلیف دہ زندگی کے بارے میں جب سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز کو پتہ چلا تو انہیں بڑا ترس آیا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اس کے علاج کا فیصلہ کیا۔ خالد کو ایک نہایت پیچیدہ اور سنجیدہ آپریشن کے […]

چھ سو دس کلو کا انسان مزید پرھیں

یونین کونسل سوہن کے نگینے لوگ

یونین کونسل سوہن کے نگینے لوگ خطۂ پوٹھوار کی سرزمین ہمیشہ سے علم، ادب اور شعور کی امین رہی ہے۔ اسی دھرتی نے ایسے نابغۂ روزگار افراد کو جنم دیا جو اہلِ علم، اہلِ ذوق اور اہلِ دل کے لیے چراغِ راہ ثابت ہوئے۔ یونین کونسل سوہن بھی ایسی ہی بے مثال شخصیات کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کے نامور شاعر، ادیب، دانشور، نقاد، استادِ اساتذہ اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک لوگ محبت، خلوص اور چاہت کے بے باک پیکر تھے۔ وہ شاعر بھی تھے، دانشور بھی؛ استاد بھی تھے اور خطیب و مقرر بھی۔ مشرق و مغرب کے قدیم و جدید علوم پر ان کی گہری دسترس تھی۔ انگریزی ادب، بالخصوص ملٹن اور شیکسپئیر سے خصوصی شغف رکھتے تھے، جبکہ اسلامی تاریخ اور فکری و اصلاحی تحریکات پر ان کی نظر نہایت گہری تھی۔ یوں وہ بلاشبہ علومِ شرق و غرب کا حسین امتزاج اور علم و فکر

یونین کونسل سوہن کے نگینے لوگ مزید پرھیں

کچی پنسل سے لکھی درخواست اور امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی مقدمہ Gideon v. Wainwright جس نے سرکاری وکیل کا حق تسلیم کروایا

کچی پنسل کا مقدمہ: پانچ ڈالر کی چوری اور امریکی انصاف کی تاریخ بدل دینے والا فیصلہ

کلیرنس ارل گیڈین فلوریڈا کا ایک کم پڑھا لکھا، بے روزگار اور عمر رسیدہ آدمی تھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے پانچ ڈالر کے سکے چرائے ہیں۔ الزام میں نہ کوئی گواہ تھا، نہ کوئی ٹھوس شہادت، صرف کسی کا یہ اندازہ کہ چوری شاید اسی نے کی ہو، اور عدالت کے لیے یہ اندازہ کافی سمجھا گیا کیونکہ ارل قانون کی زبان نہیں جانتا تھا اور وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ جب جج نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس وکیل ہے تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا اور سرکاری وکیل کی درخواست کی، مگر جواب ملا کہ قانون میں اس کی اجازت نہیں، یوں غربت نے اسے جرم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ جیل کی خاموش راتوں میں ارل یہی سوچتا رہا کہ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس کی بے بسی کیوں

کچی پنسل کا مقدمہ: پانچ ڈالر کی چوری اور امریکی انصاف کی تاریخ بدل دینے والا فیصلہ مزید پرھیں

ریت، سیمنٹ اور سکیلپل — مزدوری سے سرجری تک ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کی جدوجہد

سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں ان کا داخلہ ہوا تھا۔ بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر محمد اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی تعلیم کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج سے حاصل کی، مگر اسی دوران انہوں نے اسی کالج کی عمارتوں کی تعمیر میں بطور مزدور بھی کام کیا اور بعد ازاں اسی ادارے سے منسلک ہسپتال میں سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ دن کے وقت کالج میں پڑھتے اور شام کو زیرِ تعمیر عمارت میں مزدوری کے لیے چلے جاتے، جہاں ان کا روپ ایک طالبِ علم کے بجائے مزدور کا ہوتا تھا۔ رات گئے تک محنت مزدوری کے بعد کچھ دیر آرام کرتے اور پھر دوبارہ کلاس اور لائبریری میں مصروف ہو جاتے۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی دیہاڑی 30 روپے ہوتی تھی، جو تعلیمی اخراجات

ریت، سیمنٹ اور سکیلپل — مزدوری سے سرجری تک ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کی جدوجہد مزید پرھیں

Illustration of Basit and Amjad Alvi in a 1986 Lahore computer shop, showing the creation of the Brain Virus.

Brain Virus Research | پاکستانی بھائی اور دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس

دنیا کی کمپیوٹر تاریخ میں پہلا باقاعدہ Personal Computer Virus تیار کرنے کا اعزاز پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں، باسط علوی اور امجد علوی کو حاصل ہے۔ تقریباً تین دہائیاں قبل ان دونوں نوجوانوں نے سافٹ ویئر کی غیر قانونی نقل (Software Piracy) کے خلاف ایک منفرد مگر متنازع تجربہ کیا، جو بعد ازاں دنیا کے پہلے کمپیوٹر وائرس کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ واقعہ سنہ 1986 میں اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب امریکا کی University of Delaware میں زیرِ استعمال کمپیوٹرز میں غیر معمولی مسائل رپورٹ ہونے لگے، جن میں میموری کا وقتی طور پر ختم ہو جانا، ڈرائیو کی رفتار میں نمایاں کمی اور دیگر تکنیکی خرابیاں شامل تھیں۔ بعد از تحقیق معلوم ہوا کہ یہ مسائل ایک ایسے پروگرام کے باعث پیدا ہو رہے ہیں جو بعد میں “Brain Virus” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وائرس نہ صرف

Brain Virus Research | پاکستانی بھائی اور دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس مزید پرھیں

صوفی پوٹھوہارحضرت امیر افضل آثم سرکار کے شعری مجموعے

صوفی پوٹھوہارحضرت امیر افضل آثم سرکار کے شعری مجموعے :حافظ حماد علی حافی  

صوفی پوٹھوہار حضرت امیر افضل آثم سرکار مدظلہ العالی خطہ پوٹھوہار کے ان چند شعراء میں سے ایک ہیں جن کی تابناکی بزمِ سخن کو ہمیشہ درخشاں رکھے گی۔ آپ 6 جون 1946ء کو ضلع راولپنڈی تحصیل کہوٹہ کے ایک پرکشش اور جاذب النظر گاؤں جیوڑہ میں پیدا ہوئے۔1976 ء میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے شاگرد رشید حضرت مولوی عبد الرحمن عبدل چشتی گولڑوی علیہ الرحمۃ سے فیضانِ سخن پا کر جہانِ سخنوری میں یوں جلوہ افروز ہوئے کہ پوٹھوہاری ادب کے اساتذہ میں شمار ہونے لگے۔ گزشتہ دنوں آپ کی دو کتابوں (” صدائے سگِ کوئے جاناں اور ”آہِ نیم شب“) کی رونمائی ہوئی جس میں پوٹھوہاری ادب کے ماہرین و شائقین تشریف لائے۔ یقیناً یہ دو کتابیں پوٹھوہاری ادب کے قارئین کیلئے ہمیشہ اصلاح کا سامان کرتی رہیں گی۔ کیونکہ حضرت امیر افضل آثم نے روایتی قلمکاری کے خارزاروں سے نکل کر علم

صوفی پوٹھوہارحضرت امیر افضل آثم سرکار کے شعری مجموعے :حافظ حماد علی حافی   مزید پرھیں

Scroll to Top