بلاگ

”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان

یہ تحریر پوٹھوہار کے مشہور لکھاری فیصل عرفان صاحب کی وال سے لی گئی ہے ”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان پوٹھوہاری خوبصورت زبان ،خطہ پوٹھوہار کی ثقافت صدیوں پرانی تاریخ کی حامل ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں حکومت تمام علاقائی زبانوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے راولپنڈی/اسلام آباد( )پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان نے کہا ہے کہ ”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ ہر سال سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائے گا،پوٹھوہاری ایک خوبصورت زبان ہے ،خطہ پوٹھوہار کی ثقافت اور تہذیب وتمدن صدیوں پرانی تاریخ کی حامل ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میںحکومت، پنجاب کی تمام علاقائی زبانوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوٹھوہاری ادبی بیٹھک راولپنڈی کے زیر اہتمام اورپنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی کے اشتراک سے ”پوٹھوہار کلچر ڈے”کی مرکزی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی عبدالشکور […]

”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان مزید پرھیں

: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب

جرمن پولیس کے نئے اعداد و شمار: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب تحریر سید حسنین عباس سویڈن

جرمنی کی 2025 کی پولیس کرائم سٹیٹسٹکس (PKS) اور وفاقی پولیس (BKA) کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ ملک میں مجموعی جرائم میں معمولی کمی کے باوجود پرتشدد اورسنگین جرائم کے زمرے میں غیر ملکی شہریوں کی شمولیت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ جرمنی کی کل آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب صرف 15 سے 16 فیصد ہے، لیکن پرتشدد جرائم جیسے قتل اور ڈکیتی میں مشتبہ افراد کا تقریباً 40 سے 50 فیصد غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔اس میں سب سے پہلے شام کا ذکر آتا ہے جو کہ جرمنی میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی شہریوں میں جرم کی شرح مقامی جرمنوں کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہ زیادہ تر منشیات کی اسمگلنگ، چوری اور جسمانی حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کی آبادی میں نوجوان

جرمن پولیس کے نئے اعداد و شمار: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب تحریر سید حسنین عباس سویڈن مزید پرھیں

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ

شعیب بن حربؒ ان کی کنیت ابو صالح تھی۔ وہ مدائن میں آ کر گوشہ نشین ہو گئے، پھر مکہ مکرمہ چلے گئے اور وہیں قیام کیا یہاں تک کہ وہیں وفات پائی۔ ابن اسماعیل کہتے ہیں: ہم مدائن میں شعیب بن حرب کے پاس گئے۔ وہ دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی، اور ان کی روٹی ایک کپڑے میں لٹکی ہوئی تھی۔ ایک برتن تھا جس میں وہ ہر رات ایک روٹی بھگو کر کھاتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ ان کے جسم میں صرف چمڑا اور ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں۔انہوں نے کہا: کیا تم یہاں گوشت دیکھتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسے پگھلا دوں گا یہاں تک کہ قبر میں اس حال میں داخل ہوں کہ صرف ہڈیاں رہ جائیں جو بجیں، کیا میں کیڑوں اور سانپوں کے لیے موٹاپا چاہتا ہوں؟یہ بات

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ مزید پرھیں

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ میری کتاب ریل کی جادو نگری سے اقتباس فورتھ کلاس، درجہ چہارم آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 19ویں صدی کے ابتدائی حصے میں گاڑیوں میں ایک درجہ چہارم یعنی فورتھ کلاس بھی ہوتا تھا، یہ انتہائی غربت میں دبے ہوئے، مالی اور معاشرتی طور پر سب سے پیچھے رہ جانے والے طبقے کے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ بھی غالباً انگریزوں نے ہندوستانیوں کی تنگ دستی،انسانیت کی تذلیل اور اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایسا کیا تھا۔ اس کا آغاز 1860 میں ہوا تھا۔ شروع میں تو یہ ایک عام سا ڈبہ ہوتا تھا جس میں کھڑکیوں اور دروازوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تھا، لکڑی کی نشستیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور مسافر فرش پر بیٹھ کر ہی اپنا سفر

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ مزید پرھیں

ہاں یہ سچ ہے سرکاری کرپشن کی چشم کشا کہانیاں

کڑوا سچ برگیڈیئر محمد اسلم گھمن کی یہ کتاب اُن کی خودنوشت ہے۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کیسے گزاری۔ ایسی زندگی کہ جسے پڑھ کر انسان کا جی چاہتا ہے کہ کاش وہ بھی ایسی باوقار اور بااصول زندگی گزار سکے۔ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ڈی جی رہے ہیں۔ انہوں نے کرپشن کی ایسی ایسی وارداتیں بے نقاب کی ہیں کہ آدمی کا سر شرم سے جھک جائے۔ اس کتاب میں حکمرانوں، سیاستدانوں، افسروں اور بااثر افراد کی ایسی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کے عنوان بھی چونکا دینے والے ہیں۔ معمولی ملازمتوں میں بھی کرپشن اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ ملازم اور ملزم میں فرق مٹتا دکھائی دیتا ہے۔ قانون کے رکھوالے خود بڑے مجرم بن چکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اپنے دوستوں اور دوسروں کو قانون توڑنے کے گر سکھاتے ہیں۔ کتاب

ہاں یہ سچ ہے سرکاری کرپشن کی چشم کشا کہانیاں مزید پرھیں

چھ سو دس کلو کا انسان

610 کلو کا مسکراتا ہوا انسان 2013ء میں سعودی نوجوان خالد بن محسن الشاعری دنیا کے سب سے بھاری انسان کے طور پر منظرِ عام پر آیا۔ اس کا وزن تقریباً 610 کلوگرام تک پہنچ چکا تھا، مطلب 70 کلو وزن کے 8 صحت مند افراد کے برابر وزن۔ اتنا زیادہ کہ وہ نہ چل سکتے تھے، نہ آزادانہ سانس لے سکتے تھے اور برسوں تک اپنے بستر تک محدود زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ وہ ہلنے جلنے سے مکمل طور پر قاصر تھا۔ ہر دن ان کے لیے ایک نئی جنگ تھا، ہر سانس ایک چیلنج اور ہر لمحہ آزمائش۔ اس کی اس تکلیف دہ زندگی کے بارے میں جب سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز کو پتہ چلا تو انہیں بڑا ترس آیا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اس کے علاج کا فیصلہ کیا۔ خالد کو ایک نہایت پیچیدہ اور سنجیدہ آپریشن کے

چھ سو دس کلو کا انسان مزید پرھیں

Scroll to Top