بلاگ

تحصیل راولپنڈی میں انگریز کی جاگرداری بندر بانٹ

ضلع راولپنڈی میں انگریزنے جو بندر بانٹ کی تھی وہ 3307 لمبردار تھے جن میں انکے بطور انعام انگریز نے جاگیریں دی تھی ذیل میں اسکا نقشہ بھی موجود ہے یہ صرف دیہاتوں کی بندر بانٹ ہے شہروں میں جو ذیل دار اور انعام خور تھے وہ الگ سے ہیں(یہ نقشیہ رالپنڈی گزٹ 1904 سے لیا گیا ہے) انگریز اس گزٹ میں ان لمبرداروں کے متعلق لکھتا ہے کہ: ڈیلدار اور بڑے سردار: ضلع راولپنڈی میں کوئی ذیلدار تعینات نہیں کیے گئے، اور نہ ہی وہاں کوئی اعلی لہر دار موجود ہیں۔ اس کی بجائے متعدد چھوٹی گرانٹس (لمبر داری انعام) مفید اور ممتاز دینی سرداروں کودی گئی ہیں۔ یہ یا ان سے ملتے جلتے انعام قبل ازیں پٹواری کی وصول کردہ فیسوں میں سے ادا کیے جاتے تھے، لیکن واضح طور پر یہ ماخذ درست نہیں تھا۔ حکومت پنجاب کے حکم سے یہ نظام ختم کر دیا گیا؛ اور […]

تحصیل راولپنڈی میں انگریز کی جاگرداری بندر بانٹ مزید پرھیں

کے مُطابِق راولپنڈی کے سادات خاندان کا ریکارڈ اور اَنگریز سے وَفاداری:Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94

Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94 کے مُطابِق راولپنڈی کے سادات خاندان کا ریکارڈ اور اَنگریز سے وَفاداری: ضِلْعِ راولپنڈی کے سادات دیگر اَضلاع کے ساداتِ جیسے ہی ہیں۔ مُتَعَدِّد اپنی زَمینیں خُود کاشْت کرتے ہیں، لیکن وہ بَدْتَرین زِراعت کار ہیں۔ تاہم، مُسْلِم آبادی اور اَعْلیٰ ترین رُتْبے کے قَبائل میں اِن کا کافی اَثَر و رُسوخ ہے۔ گَکھڑ اور جَنْجوعہ کسی سَیِّد کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ وہ ضِلْع کے تمام حصّوں میں مِلتے ہیں۔اِن کے مُمتاز آدمیوں میں دَرْج ذیل شامِل ہیں: دُھلیاں، تحصیل پنڈی گھیب کا پیر لال شاہ، جو ضِلْع کے سب سے بااَثَر السّادات میں سے ایک ہے۔ دُھلیاں کے پیروں کے مُرید سندھ پار کے مُتَعَدِّد اَضلاع اور حَتّٰی کہ کابل میں بھی مِلتے ہیں۔ زِیارت شاہ کا پیر رَحْمَتُ اللہ بھی کافی مشہور ہے۔ مُکھڈ کے پیر چَن کا بیٹا پیر غُلام جَعفر (مُکھڈ کے غُلام

کے مُطابِق راولپنڈی کے سادات خاندان کا ریکارڈ اور اَنگریز سے وَفاداری:Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94 مزید پرھیں

”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان

یہ تحریر پوٹھوہار کے مشہور لکھاری فیصل عرفان صاحب کی وال سے لی گئی ہے ”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان پوٹھوہاری خوبصورت زبان ،خطہ پوٹھوہار کی ثقافت صدیوں پرانی تاریخ کی حامل ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں حکومت تمام علاقائی زبانوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے راولپنڈی/اسلام آباد( )پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان نے کہا ہے کہ ”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ ہر سال سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائے گا،پوٹھوہاری ایک خوبصورت زبان ہے ،خطہ پوٹھوہار کی ثقافت اور تہذیب وتمدن صدیوں پرانی تاریخ کی حامل ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میںحکومت، پنجاب کی تمام علاقائی زبانوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوٹھوہاری ادبی بیٹھک راولپنڈی کے زیر اہتمام اورپنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی کے اشتراک سے ”پوٹھوہار کلچر ڈے”کی مرکزی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی عبدالشکور

”پوٹھوہار کلچر ڈے”آئندہ سرکاری سطح پر 14اپریل کومنایا جائیگا،شازیہ رضوان مزید پرھیں

: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب

جرمن پولیس کے نئے اعداد و شمار: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب تحریر سید حسنین عباس سویڈن

جرمنی کی 2025 کی پولیس کرائم سٹیٹسٹکس (PKS) اور وفاقی پولیس (BKA) کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ ملک میں مجموعی جرائم میں معمولی کمی کے باوجود پرتشدد اورسنگین جرائم کے زمرے میں غیر ملکی شہریوں کی شمولیت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ جرمنی کی کل آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب صرف 15 سے 16 فیصد ہے، لیکن پرتشدد جرائم جیسے قتل اور ڈکیتی میں مشتبہ افراد کا تقریباً 40 سے 50 فیصد غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔اس میں سب سے پہلے شام کا ذکر آتا ہے جو کہ جرمنی میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی شہریوں میں جرم کی شرح مقامی جرمنوں کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہ زیادہ تر منشیات کی اسمگلنگ، چوری اور جسمانی حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کی آبادی میں نوجوان

جرمن پولیس کے نئے اعداد و شمار: شام، افغانستان اور پاکستان سمیت مختلف قومیتوں کا جرائم میں تناسب تحریر سید حسنین عباس سویڈن مزید پرھیں

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ

شعیب بن حربؒ ان کی کنیت ابو صالح تھی۔ وہ مدائن میں آ کر گوشہ نشین ہو گئے، پھر مکہ مکرمہ چلے گئے اور وہیں قیام کیا یہاں تک کہ وہیں وفات پائی۔ ابن اسماعیل کہتے ہیں: ہم مدائن میں شعیب بن حرب کے پاس گئے۔ وہ دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی، اور ان کی روٹی ایک کپڑے میں لٹکی ہوئی تھی۔ ایک برتن تھا جس میں وہ ہر رات ایک روٹی بھگو کر کھاتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ ان کے جسم میں صرف چمڑا اور ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں۔انہوں نے کہا: کیا تم یہاں گوشت دیکھتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسے پگھلا دوں گا یہاں تک کہ قبر میں اس حال میں داخل ہوں کہ صرف ہڈیاں رہ جائیں جو بجیں، کیا میں کیڑوں اور سانپوں کے لیے موٹاپا چاہتا ہوں؟یہ بات

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ مزید پرھیں

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ میری کتاب ریل کی جادو نگری سے اقتباس فورتھ کلاس، درجہ چہارم آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 19ویں صدی کے ابتدائی حصے میں گاڑیوں میں ایک درجہ چہارم یعنی فورتھ کلاس بھی ہوتا تھا، یہ انتہائی غربت میں دبے ہوئے، مالی اور معاشرتی طور پر سب سے پیچھے رہ جانے والے طبقے کے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ بھی غالباً انگریزوں نے ہندوستانیوں کی تنگ دستی،انسانیت کی تذلیل اور اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایسا کیا تھا۔ اس کا آغاز 1860 میں ہوا تھا۔ شروع میں تو یہ ایک عام سا ڈبہ ہوتا تھا جس میں کھڑکیوں اور دروازوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تھا، لکڑی کی نشستیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور مسافر فرش پر بیٹھ کر ہی اپنا سفر

کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ مزید پرھیں

Scroll to Top