ریت، سیمنٹ اور سکیلپل — مزدوری سے سرجری تک ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کی جدوجہد
سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں ان کا داخلہ ہوا تھا۔ بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر محمد اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی تعلیم کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج سے حاصل کی، مگر اسی دوران انہوں نے اسی کالج کی عمارتوں کی تعمیر میں بطور مزدور بھی کام کیا اور بعد ازاں اسی ادارے سے منسلک ہسپتال میں سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ دن کے وقت کالج میں پڑھتے اور شام کو زیرِ تعمیر عمارت میں مزدوری کے لیے چلے جاتے، جہاں ان کا روپ ایک طالبِ علم کے بجائے مزدور کا ہوتا تھا۔ رات گئے تک محنت مزدوری کے بعد کچھ دیر آرام کرتے اور پھر دوبارہ کلاس اور لائبریری میں مصروف ہو جاتے۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی دیہاڑی 30 روپے ہوتی تھی، جو تعلیمی اخراجات […]
ریت، سیمنٹ اور سکیلپل — مزدوری سے سرجری تک ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کی جدوجہد مزید پرھیں