کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟
کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ میری کتاب ریل کی جادو نگری سے اقتباس فورتھ کلاس، درجہ چہارم آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 19ویں صدی کے ابتدائی حصے میں گاڑیوں میں ایک درجہ چہارم یعنی فورتھ کلاس بھی ہوتا تھا، یہ انتہائی غربت میں دبے ہوئے، مالی اور معاشرتی طور پر سب سے پیچھے رہ جانے والے طبقے کے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ بھی غالباً انگریزوں نے ہندوستانیوں کی تنگ دستی،انسانیت کی تذلیل اور اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایسا کیا تھا۔ اس کا آغاز 1860 میں ہوا تھا۔ شروع میں تو یہ ایک عام سا ڈبہ ہوتا تھا جس میں کھڑکیوں اور دروازوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تھا، لکڑی کی نشستیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور مسافر فرش پر بیٹھ کر ہی اپنا سفر […]
کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟ مزید پرھیں