Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94 کے مُطابِق راولپنڈی کے سادات خاندان کا ریکارڈ اور اَنگریز سے وَفاداری:
ضِلْعِ راولپنڈی کے سادات دیگر اَضلاع کے ساداتِ جیسے ہی ہیں۔ مُتَعَدِّد اپنی زَمینیں خُود کاشْت کرتے ہیں، لیکن وہ بَدْتَرین زِراعت کار ہیں۔ تاہم، مُسْلِم آبادی اور اَعْلیٰ ترین رُتْبے کے قَبائل میں اِن کا کافی اَثَر و رُسوخ ہے۔ گَکھڑ اور جَنْجوعہ کسی سَیِّد کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ وہ ضِلْع کے تمام حصّوں میں مِلتے ہیں۔اِن کے مُمتاز آدمیوں میں دَرْج ذیل شامِل ہیں:
دُھلیاں، تحصیل پنڈی گھیب کا پیر لال شاہ، جو ضِلْع کے سب سے بااَثَر السّادات میں سے ایک ہے۔ دُھلیاں کے پیروں کے مُرید سندھ پار کے مُتَعَدِّد اَضلاع اور حَتّٰی کہ کابل میں بھی مِلتے ہیں۔ زِیارت شاہ کا پیر رَحْمَتُ اللہ بھی کافی مشہور ہے۔
مُکھڈ کے پیر چَن کا بیٹا پیر غُلام جَعفر (مُکھڈ کے غُلام مُحَمَّد خان کے سِگری خاندان کا شَدید دُشمن) بھی بااَثَر تھا۔ وہ جَنوری 1893ء میں فوت ہوا، جب اُس کا اَکلوتا بیٹا نابالغ تھا۔
سَنگ جانی کا مَہدی شاہ، اَعْزازی مَجِسٹریٹ راولپنڈی شہر، اپنی وَفاداری اور مُفید مَقامی جینٹلمین ہونے کی حَیثیت میں لائقِ ذِکر ہے، جِس نے ضَرورت پڑنے پر ہمیشہ ضِلعی اِنتِظامیہ کی مَدَد کی۔ (وہ اکتوبر 1887ء میں فوت ہوا اور اُس کا بیٹا اَمِیر حَیدر شاہ اُس کی جگہ اِنْعام، جاگیر اور لَمْبَرداری کے عِلاوہ اَعْزازی مَجِسٹریٹ کا حَق دار بنا۔)
پیر صَدْرُالدِّین آف رَتّہ ہوتَر بھی ایک اَعْزازی مَجِسٹریٹ اور مشہور سَیِّد ہے۔ جَھنگ سَیِّداں کا مُحْسِن علی شاہ، کچھ خُود پسند ہونے کے باوُجود، خُوش اَطوار سَیِّد جینٹلمین ہے، جِسے لوگ کافی عِزّت کی نَظر سے دیکھتے ہیں۔
ریکارڈز کے مُطابِق، سادات تحصیل راولپنڈی میں 39، پنڈی گھیب میں 10، اٹک میں 8 اور گوجر خان میں 2، یعنی کُل 59 دیہات کے مالِک ہیں۔

