ضلع راولپنڈی میں انگریزنے جو بندر بانٹ کی تھی وہ 3307 لمبردار تھے جن میں انکے بطور انعام انگریز نے جاگیریں دی تھی ذیل میں اسکا نقشہ بھی موجود ہے یہ صرف دیہاتوں کی بندر بانٹ ہے شہروں میں جو ذیل دار اور انعام خور تھے وہ
الگ سے ہیں(یہ نقشیہ رالپنڈی گزٹ 1904 سے لیا گیا ہے)
الگ سے ہیں(یہ نقشیہ رالپنڈی گزٹ 1904 سے لیا گیا ہے)انگریز اس گزٹ میں ان لمبرداروں کے متعلق لکھتا ہے کہ:
ڈیلدار اور بڑے سردار: ضلع راولپنڈی میں کوئی ذیلدار تعینات نہیں کیے گئے، اور نہ ہی وہاں کوئی اعلی لہر دار موجود ہیں۔ اس کی بجائے متعدد چھوٹی گرانٹس (لمبر داری انعام) مفید اور ممتاز دینی سرداروں کودی گئی ہیں۔
یہ یا ان سے ملتے جلتے انعام قبل ازیں پٹواری کی وصول کردہ فیسوں میں سے ادا کیے جاتے تھے، لیکن واضح طور پر یہ ماخذ درست نہیں تھا۔ حکومت پنجاب کے حکم سے یہ نظام ختم کر دیا گیا؛ اور ان کی جگہ پر کل 13100 روپے کے انعامات برائے نام طور پر مختلف متعلقہ دیہات کے لگان میں سے دیے گئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ضلع کے زمینی لگان میں سے ہیں۔ ذیلداروں کے لیے لگان کے ایک فیصد اجازت ہے، اور اس کے علاوہ انعامات کے لیے % فیصد کی۔ راولپنڈی میں کوئی ذیلدار مقرر نہیں کیا گیا ؛ لگان کے 14 (1.25) فیصد کو بنیاد بنا کر چھ تحصیلوں، راولپنڈی، گوجر خان، کہوٹہ اور پنڈی گھیب میں دیے جانے والے انعاموں کی رقم کاحساب لگایا گیا؛ اور فتح جنگ میں ڈیڑھ فیصد کی اجازت تھی؛ اٹک میں دو فیصد (خصوصی حالات اور سرحد سےقربت کی وجہ سے)۔
بہت سے لمبر داروں اور ممتاز زمینداروں کا گزشتہ ہندو بست کے وقت پٹواری فیسوں سے دی گئی انعام جاگیریں تاحیات کر دی گئیں۔ باقی ماندہ کی تقسیم میں اس اصول کی پیروی کی گئی کہ ضلع کے مختلف قبائل کے
ممتاز اور با اثر مہر داروں کو ماضی میں ضلعی انتظامیہ کو پیش کردہ خدمات کے بدلے میں انعام دینے چاہئیں تاکہ مستقبل میں بھی وہ کام آسکیں۔ یہ انعام جاگیریں ضلع کے تمام حصوں میں اس طریقے سے تقسیم کی گئی ہیں کہ کوئی بڑا خطہ ان کے بغیر نہیں، اور وہ ایسی جگہوں پر دی گئی ہیں جہاں نمبر داروں سے کافی معاونت کی ضرورت ہے، جیسے پڑاؤ ڈالنے کے مقامات، قانونگو ہیڈ کوارٹرز اور اہم خاندانوں کے سربراہ جو آس پاس کے علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور جنہوں نے وفاداری اور خلوص کا مظاہرہ کیا۔ انہیں تخمینے کے سرکلز (جو بہت وسیع ہیں) کی
بجائے پرانی مالیاتی تقسیموں یعنی علاقوں کے مطابق بانٹا گیا ہے۔ یہ جاگیریں تاحیات یا اچھا طرز عمل اپنائےرکھنے تک رہتی ہیں۔ کسی عہدہ دار کی وفات پر عائد کردہ شرائط یہ ہیں کہ انعام اسی علاقہ میں متوفی انعام خور“والے قبیلے کے ہی کسی اور فرد کو دیا جائے گا۔ چنانچہ کسی انعام خور کے ورثا اس پر کسی قسم کا دعویٰ نہیں جا سکتے۔
البتہ اکثر کسی متوفی انعام خور کا رشتہ دار ہی اس بنیاد پر انعام حاصل کر لیتا ہے کہ وہ اپنے باپ یا قریبی عزیز جیسا ہی اثر در سوخ رکھتا ہے۔
دیکھئے صفحہ 142 /143
نوٹ:یہ تحریر کسی خاندان کو نیچا دکھانے کے لئے نئی لگائی گئی بلکہ نئی نسل کو تاریخ سے آگاہ کرنے کی کاوش ہے۔
اگر آپ یہ مکمل کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو اسکا لنک یہ ہے

