یہ مسلمانوں کے اُس لشکر کا عَلَم ہے جو معرکۂ عُقاب میں استعمال ہوا تھا۔

یہ مسلمانوں کے اُس لشکر کا عَلَم ہے جو معرکۂ عُقاب میں استعمال ہوا تھا۔
اسی تاریخی پرچم کو اسپین میں آج بھی ہر سال 20 جولائی کو یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اندلس میں اسلامی سلطنت کی پہلی عظیم اور فیصلہ کن شکستوں میں شمار ہوتی ہے؛ ایک ایسی شکست جس نے پورے خطے کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
یہ مشہور تاریخی جنگ ’’معرکۂ عُقاب‘‘ کہلاتی ہے، جسے ہسپانوی تاریخ میں
Batalla de Las Navas de Tolosa
کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ جنگ 16 جولائی 1212ء کو ہوئی، جب سلطنتِ موحدین کے سلطان محمد الناصر نے عیسائی اتحادی افواج کے مقابلے میں مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کی۔
یہ معرکہ ’’حصن العُقاب‘‘ اور وادی ’’نافاس دی تولوسا‘‘ کے قریب پیش آیا، جو آج کے اسپین کے جنوبی علاقے میں واقع ہے۔
اس جنگ میں قشتالہ، ارغون، ناوارا اور دیگر عیسائی ریاستوں نے متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی صلیبی فوج تشکیل دی تھی۔ دوسری طرف موحدین کی فوج تعداد اور طاقت کے اعتبار سے عظیم سمجھی جاتی تھی، مگر جنگی حکمتِ عملی، داخلی اختلافات اور بعض اتحادی قبائل کی کمزوریوں نے مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
مورخین کے مطابق یہ جنگ اندلس کی اسلامی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
معرکۂ عُقاب کے بعد شمالی اسپین کی عیسائی ریاستوں کا حوصلہ بلند ہوا، جبکہ مسلمانوں کی سیاسی و عسکری طاقت بتدریج کمزور پڑنے لگی۔ اسی شکست کے بعد اندلس کے کئی اہم شہر رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتے گئے، یہاں تک کہ چند صدیوں بعد غرناطہ کی آخری اسلامی حکومت بھی ختم ہوگئی۔
یہ تاریخی پرچم آج بھی متحفِ حربیِ میڈرڈ میں محفوظ ہے، جہاں اسے اندلس کی تاریخ اور یورپ کی قرونِ وسطیٰ کی جنگوں کی ایک اہم یادگار کے طور پر رکھا گیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top