December 2025

سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش

میں ایک ایسے معاشرے کا فرد ہوں جہاں امیر کی بکواس بھی غور سے سنی جاتی ہے اور غریب کی چیخ و پُکار پر کان نہیں دھرے جاتے۔ جہاں سٹیٹس سمبل عزت کا استعارہ ہے۔ آئی فون، ویگو، فارچونر و پراڈو کھوکھلے لوگوں کو معتبری کی سند ہے۔اس قدر حبس بھرا ماحول ہے کہ سانس لینے کو اپنے اطراف کی آکسیجن خود پیدا کرنا پڑتی ہے۔ میں فارچونر یا پراڈو یا ریوو لے سکتا ہوں مگر نہیں لی اور نہیں لوں گا۔ مجھے اس کلچر کا حصہ نہیں بننا جس کا ہر وڈیرہ، بدمعاش ،سیاسی ایلیٹ، ٹچے کاروباری وغیرہ وغیرہ حصہ ہیں۔ ڈھائی سال قبل چاؤ سے رینج روور امپورٹ کروا لی تھی۔مجھے عالمی ادارے میں ہونے کے سبب ایک گاڑی صفر ٹیکس کے ساتھ یعنی ٹیکس فری درآمد کرنے کی سہولت تھی۔ میں دو ماہ گزار سکا اور میں بیزار ہو گیا۔ وہ ایک الگ قسم کا سٹیٹس سمبل […]

سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش مزید پرھیں

دنیا بھر کی اسکالرشپس: خواب کو حقیقت بنانے کا سنہری موقع

گلوبل اسکالرشپس: تعلیمی خوابوں کی تعبیر دنیا بھر میں لاکھوں طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں، لیکن مالی وسائل کی کمی اکثر ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ گلوبل اسکالرشپس ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف مالی مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ طلباء کو بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے، ثقافتی تبادلے کا تجربہ کرنے اور اپنے کیریئر کو نئی جہت دینے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ اسکالرشپ ایک مالی امداد ہے جو تعلیمی کارکردگی، ضرورت، یا کسی خاص شعبے میں مہارت کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ یہ رقم تعلیمی اخراجات جیسے ٹیوشن فیس، رہائش، کتابیں اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ گلوبل اسکالرشپس مختلف اقسام کی ہوتی ہیں: میرٹ بیسڈ اسکالرشپس جو تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، نیڈ بیسڈ اسکالرشپس جو مالی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جاتی ہیں، اسپیشلائزڈ اسکالرشپس جو

دنیا بھر کی اسکالرشپس: خواب کو حقیقت بنانے کا سنہری موقع مزید پرھیں

حافظ غلام قادریؒ/Hafiz Ghulam Qadri R.A

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی:پیش لفظ

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی پیش لفظ ﷽ سلسلۂ نبو ت‘آقائے نامدار ﷺ پراختتام پذیرہوا لیکن کارِ نبوت تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔ برکاتِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کی حفاظت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ذمہ ہے لیکن ان کی ترویج وتقسیم کا فریضہ مشائخِ عظام‘ اولیائے کرام اور علمائے حق کی مقدس جماعت کے سپرد ہوا۔ ان نفوسِ قدسیہ نے مثلِ انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام اس کارِ نبوت کی بجا آوری کاحق یوں اداکیا کہ صدیوں کی دوری کے باوجودآج بھی امت کی زبان پر یہ اعترافِ حقیقت جاری ہے۔ رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْايْمَانِ اَنْ آمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا اے ہمارے پروردگار! بیشک ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ ایمان کے لئے پکار رہا تھا کہ اپنے پروردگار کے ساتھ ایمان لاؤ‘پس ہم ایمان لائے۔ (آل عمران۔193) تاریخ کے ادوار میں جب کبھی ظلمت و گمراہی انتہاکو پہنچی تو اس

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی:پیش لفظ مزید پرھیں

Scroll to Top