کیا آپ کو علم ہے کہ شروع کے دور میں ریل گاڑی میں درجہ چہارم کا ڈبہ بھی ہوتا تھا ؟
میری کتاب ریل کی جادو نگری سے اقتباس
فورتھ کلاس، درجہ چہارم
آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 19ویں صدی کے ابتدائی حصے میں گاڑیوں میں ایک درجہ چہارم یعنی فورتھ کلاس بھی ہوتا تھا، یہ انتہائی غربت میں دبے ہوئے، مالی اور معاشرتی طور پر سب سے پیچھے رہ جانے والے طبقے کے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ بھی غالباً انگریزوں نے ہندوستانیوں کی تنگ دستی،انسانیت کی تذلیل اور اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایسا کیا تھا۔ اس کا آغاز 1860 میں ہوا تھا۔ شروع میں تو یہ ایک عام سا ڈبہ ہوتا تھا جس میں کھڑکیوں اور دروازوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تھا، لکڑی کی نشستیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور مسافر فرش پر بیٹھ کر ہی اپنا سفر جاری رکھتے تھے۔ بیت الخلا کا بھی کوئی تصور نہ تھا، لوگ کسی اسٹیشن پر پہنچتے ہی اپنی حاجت روائی کے لیے پلیٹ فارموں یا قریبی جھاڑیوں کی طرف بگٹٹ بھاگتے دیکھے جا سکتے تھے، بعد میں حکومت کو شاید کچھ ترس آیا تو ڈبے کے ایک کونے میں بیت الخلاءکے نام پر ایک چھوٹا سا کابک بنا کر کھڑا کر دیا اور پردہ داری کے لیے دروازہ بھی لگا دیا گیا، اس ڈبے میں مسافر تعداد میں بہت زیادہ ہوتے تھے، اس لیے وہاں تک پہنچنے کیلیے بسا اوقات لڑائی جھگڑے بھی ہو جاتے تھے۔ اس سے زیادہ غلیظ بیت الخلاء کا منظر شاید ہی کبھی کسی نے دیکھا ہو۔ڈبے میں روشنی یا پنکھوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیوں کہ اس زمانے میں یہ تھے ہی نہیں اور اگر یہ ہوتے بھی تو ان لوگوں پر کس نے یہ کرم فرمائی کرنا تھی۔ درجہ چہارم کے ان ڈبوں کو غالباً مال گاڑی کی ویگنوں کو کاٹ پیٹ کر اور اس میں کچھ کھڑکیاں دروازے نکال کر تیار کیا جاتا تھا۔ پھرشاید کسی صاحب دل نے محکمہ ریلوے کے حکمرانوں کو سمجھایا ہو گا کہ گورا صاحب یہ ظلم نہ کریں، اب اس حد تک بھی نہ گر جائیں کہ انسانوں کو جانوروں کی طرح ایک جگہ بند کر کے سفر کرنے پر مجبور کریں۔ غرض ان کو یہ بات سمجھ میں آگئی اور اس درجہ کو جلد ہی ختم کر کے درجہ سوم میں ضم کر دیا گیا۔ یہ 1880ء کی بات ہے، تاہم بعد میں بھی کافی عرصے تک ہندوستان کے دیہی علاقوں میں چلنے والی مسافر گاڑیوں کے ساتھ دوڑتے پھرتے یہ قید خانے موجود ہوتے تھے۔
۔
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)

