خطہ پوٹھوہار میں انگریز کے ذیل دار اور انعام خور

خطہ پوٹھوہار میں انگریز کے ذیل دار اور انعام خور

یہ وہ افراد ہیں جن کے ذریعے انگریز نے خطہ پوٹھوہار پر راج کیا انکو سپیشل انعام اور زمینیں ملی ہیں اسکے علاوہ نمبرداروں نے بھی انگریز کے نمک حلالی ہونے کا حق ادا کیا ۔آپکو تاریخ کی کتب میں ان سب کے أحوال مل جائیں گے ذیل میں ہم عارف منہاس صاحب کی کتاب تاریخ راولپنڈی کی جلد دوم سے اقتباس پیش کرتے ہیں عارف منہاس صاحب لکھتے ہیں کہ

عہدِ انگریز میں ضلع راولپنڈی کے ذیل داروں اور انعام خوروں کی تاریخی منظرکشی، جس میں برطانوی افسران، مقامی بااثر شخصیات، راولپنڈی کا نقشہ اور انعامات کی علامتی تصاویر شامل ہیں۔

برطانوی دور میں پوٹھوہار خصوصاً ضلع راولپنڈی میں ذیل داروں اور انعام خوروں کا نظام، انگریز حکومت کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے کا اہم حصہ تھا۔:

ذیل دار و انعام خوار انگریز علاقہ کے سرکردہ اشخاص کی خدمت میں پیش کر کے نظامِ حکومت چلاتا تھا۔ ایک ذیل تقریباً دو یا تین پٹوار حلقوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ ذیل دار اور انعام خوار بڑے ہی بااثر اور معروف قبائل میں سے لیے جاتے تھے تاکہ یہ لوگ اپنے ذاتی اثر و رسوخ اور حکومت کے تعاون و حمایت سے علاقہ میں امن و امان قائم رکھنے میں حکومت کے ممد و معاون ثابت ہوں۔ ذیلدار کو تقریباً تین صد (۳۰۰) اور انعام خوار کو ڈیڑھ صد روپیہ سالانہ وظیفہ دیا جاتا تھا۔ اس وظیفہ کے علاوہ نہری علاقہ میں پانچ پانچ مربعہ یعنی یکصد پچیس ایکڑ زمین بھی دی جاتی تھی اور جو زیادہ انگریزی کا بہی خواہ ہو یا انگریز کی نظر میں موزوں ہو، اس کو القابات یعنی سر، خان صاحب اور خان بہادر وغیرہ سے نوازا جاتا تھا۔ نہری زمین دینے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مالی طور پر مستحکم ہو کر عوام میں ہر لحاظ سے ممتاز رہ سکیں۔ تحصیل مری میں ۹، تحصیل کہوٹہ میں ۱۱، تحصیل گوجر خان اور راولپنڈی میں پندرہ پندرہ ذیل دار و انعام خوار تھے۔

ان میں سے چند ذیلداروں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:-

راجا اللہ دتہ خان پنجاڑ، خان صاحب، راجا محمد عظیم خان ذیل نڑ(کتاب میں لفظ واضح نہیں)، صویبدار راجا غلام مرتضیٰ ذیل لہتراڑ، راجا فرزند علی خان بیور، راجا سلطان محمود مٹور، حاجی خداداد ذیل ہنیسر، مرزا سجاول خان ذیل دوبیزن، مرزا قربان حسین ذیل منیاندہ، بابا کیم سنگھ ذیل کلر، خان صاحب محمد خان بشندوٹ، راجا فضل داد خان (راقم کے بزرگ) ذیل ساگری و روات، چودھری بوستان خان آف کوٹھہ، راجا گلشن خان آف سید پور، خان خدا بخش خان آف گولڑہ کے والد،راجا شیر احمد آف دیوی کے والد، قاضی باغ علی آف   قاضیاں، بابا فرمان علی آف چھینہ، چودھری ظفر الحق (چیئرمین ضلع کونسل راولپنڈی)، بابا منصبدار خان آف پھلگراں، راجا محرم علی خان آف پھلگراں، راجا محمد خان آف دھمیال، راجا امیر خان رینال ڈسٹرکٹ درباری، راجا حشمت رینال، راجا کالا خان چراہ انعام خور، راجا محمد سرور چارہان، راجا مانان خان کرور، راجا سمندر خان پوٹھہ شریف، راجہ ۔۔۔خان تیمر، راجا محمد خورشید پنڈ بیگوال، سردار محمد فیروز پم تراڑ، راجا جہانداد  خان۔

ذیل داروں اور انعام خواروں کے علاوہ ڈسٹرکٹ، ڈویژنل، صوبائی اور مرکزی درباری بھی ہوتے تھے۔ ضلع راولپنڈی کو اویسرائے درباری ہندو مول راج آف ساگری تھا۔ سیشن جج جب قتل کے مقدمات کی سماعت کرتا تھا تو اپنے دو اسیسر قائم کرتا تھا۔ ان اسیسروں کی پورے ضلع میں تعداد ۳۸ تھی۔ مذکورہ بالا تمام عہدے قیامِ پاکستان بننے کے چند سالوں کے بعد ختم کر دیئے گئے ہیں۔ انتحاب ابن محمد جی
اگر آپ عارف منہاس صاحب یہ کتاب مکمل پڑھنا چاہتے ہیں تو اسکا لنک یہ ہے
تاریخ راولپنڈی جلد اول
تاریخ راولپنڈی جلد دوم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top