تصوف

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ

شعیب بن حربؒ ان کی کنیت ابو صالح تھی۔ وہ مدائن میں آ کر گوشہ نشین ہو گئے، پھر مکہ مکرمہ چلے گئے اور وہیں قیام کیا یہاں تک کہ وہیں وفات پائی۔ ابن اسماعیل کہتے ہیں: ہم مدائن میں شعیب بن حرب کے پاس گئے۔ وہ دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی، اور ان کی روٹی ایک کپڑے میں لٹکی ہوئی تھی۔ ایک برتن تھا جس میں وہ ہر رات ایک روٹی بھگو کر کھاتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ ان کے جسم میں صرف چمڑا اور ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں۔انہوں نے کہا: کیا تم یہاں گوشت دیکھتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسے پگھلا دوں گا یہاں تک کہ قبر میں اس حال میں داخل ہوں کہ صرف ہڈیاں رہ جائیں جو بجیں، کیا میں کیڑوں اور سانپوں کے لیے موٹاپا چاہتا ہوں؟یہ بات […]

حضرت شعیب بن حرب رحمہ اللہ مزید پرھیں

قریشی عقیل عزمؔی، ڈھوک سر، اسلام پورہ جبر غوطہ زن ہو کے بحر سخن اندر صدف لب لے بحر عمیق وچوںنگاہ بلند تے دل بینا باہجوں آئے کتھوں سوزِ شفیق وچوںساحل سخن تے بکھرے انمل موتی چن لے گوہر مرجان عقیق وچوںفن سخن رکھے کجھ ایسا کمال عزمؔی دوست دشمن کریں تصدیق وچوں

مزید پرھیں

حافظ غلام قادریؒ/Hafiz Ghulam Qadri R.A

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی:پیش لفظ

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی پیش لفظ ﷽ سلسلۂ نبو ت‘آقائے نامدار ﷺ پراختتام پذیرہوا لیکن کارِ نبوت تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔ برکاتِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کی حفاظت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ذمہ ہے لیکن ان کی ترویج وتقسیم کا فریضہ مشائخِ عظام‘ اولیائے کرام اور علمائے حق کی مقدس جماعت کے سپرد ہوا۔ ان نفوسِ قدسیہ نے مثلِ انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام اس کارِ نبوت کی بجا آوری کاحق یوں اداکیا کہ صدیوں کی دوری کے باوجودآج بھی امت کی زبان پر یہ اعترافِ حقیقت جاری ہے۔ رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْايْمَانِ اَنْ آمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا اے ہمارے پروردگار! بیشک ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ ایمان کے لئے پکار رہا تھا کہ اپنے پروردگار کے ساتھ ایمان لاؤ‘پس ہم ایمان لائے۔ (آل عمران۔193) تاریخ کے ادوار میں جب کبھی ظلمت و گمراہی انتہاکو پہنچی تو اس

احوال وآثارحضرت حافظ غلام قادری رحمہ اللہ تعالی:پیش لفظ مزید پرھیں

Scroll to Top