بلاگ

نذر مسلم لائبریری

نذر مسلم لائبریری راولپنڈی کے علمی ورثے کی ایک صدی

نذر مسلم لائبریری : راولپنڈی کا علمی ورثہ جو صدی پار کر گیا مگر ہمت ہار گیا تحریر: ابنِ محمد جی (اس مضمون کی تیاری میں محبوب عالم اور مرزا شمس کی فیس بک تحریروں اور مختلف احباب کے تبصروں سے مدد لی گئی ہے۔) راولپنڈی کی پرانی مری روڈ پر ایک چھوٹا سا کمرہ، چند بینچیں، ایک میز اور چند شیلف ….. یہ ہے وہ تاریخی مقام جسے اہلِ شہر ’’نذر مسلم لائبریری‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔یہ لائبریری سنہ 1924ء میں میاں نذر محمد نے قائم کی تھی، جو ایک کاتب، مطالعہ کے شیدائی اور اہلِ قلم میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ شہر کے عام شہری بغیر کسی مالی بوجھ کے علم و معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ذاتی محنت اور جیب سے یہ علمی گوشہ قائم کیا جو برسوں تک اہلِ ذوق کے لیے مرکزِ مطالعہ بنا رہا۔اس […]

نذر مسلم لائبریری راولپنڈی کے علمی ورثے کی ایک صدی مزید پرھیں

راجہ عارف منہاس کی کتابیں

راجا محمد عارف منہاس کی کتابیں

تاریخِ راولپنڈی اور راجہ محمد عارف منہاس رحمہ اللہ راجہ محمد عارف منہاس رحمہ اللہ پوٹھوہار کی سرزمین کے اُن معدودے چند محققین میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو تاریخ، آثارِ قدیمہ اور تہذیبی ورثے کے مطالعے کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے خاص طور پر راولپنڈی اور خطۂ پوٹھوہار کی تاریخی حیثیت، ثقافتی شناخت اور آثارِ قدیمہ پر تحقیق کر کے اُن گوشوں کو اجاگر کیا جن پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔ان کی تحریریں صرف ماضی کا بیان نہیں بلکہ قاری کے اندر اپنے ورثے سے وابستگی اور فخر کا احساس بھی بیدار کرتی ہیں۔ تاریخ کا ایک ادنیٰ طالبِ علم ہونے کے ناطے جب میں نے تاریخِ راولپنڈی کو پڑھنے کی ضرورت محسوس کی تو جس بڑی شخصیت اور محقق کا نام سامنے آیا، وہ تھے راجہ محمد عارف منہاس رحمہ اللہ۔راجہ عارف منہاس صاحب کلرسیداں روڈ پر واقع معروف گاؤں ساگری کے رہنے

راجا محمد عارف منہاس کی کتابیں مزید پرھیں

چکله پُل راولپنڈی

 چکله پُل راولپنڈیپہلی جنگ عظیم کے دوران راولپنڈی میں دفاعی ضروریات کے پیش نظر دو ڈویژن فوج تعینات کی گئی جس کی وجہ سے اپریل 1915 میں نرنکاری بازار والے چکلے میں فوجیوں اور دلالوں میں لڑائی ہو گئی فوجیوں نے دلالوں کومار مار کر بھگا دیا۔ تاریخ راولپنڈی و پاکستان از محمد عارف راجہ میں لکھا ہے کہ جب چکلے میں آئے روز لڑائیاں معمول بن گئیں تو مولوی عبدالحق نے ہندو اور سکھ برادریوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا اور چکلہ ختم کرانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی خواہش کا اظہار کیا، مگر انہوں نے سرد مہری دکھائی جس کی وجہ سے مسلمان رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی جو 1920 سے 1927 تک جدوجہد کرتی رہی۔مقامی انتظامیہ کا موقف تھا کہ راولپنڈی کا چکلہ بند کرنے کا مطلب پورے ہندوستان کے چکلے بند کرنا ہے اس لیے یہ مقامی انتظامیہ کی بجائے وائسرائے کا

چکله پُل راولپنڈی مزید پرھیں

Scroll to Top