بلاگ

جناح صاحب کی زندگی کا وہ پہلو جو کم لوگ جانتے ہیں

قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کی زندگی کا وہ پہلو جو کم لوگ جانتے ہیں

اگر آپ نے سکول یا روایتی مضامین سے قائداعظم محمد علی جناح ﷺ کو جانا ہے، تو یہ مضمون آپ کے لیے کچھ نیا اور مستند روشنی ڈالے گا۔ یہ وہ پہلو ہے جس کا ذکر محترمہ فاطمہ جناح کی کتابوں میں بھی بہت محدود ہے۔جناح صاحب کی زندگی میں ایک اہم حقیقت یہ تھی کہ انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی، باوجود اس کے کہ کئی خواتین، خاص طور پر امیر اور مشہور خاندانوں کی خواتین، ان سے رشتہ جوڑنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ان کی پہلی زوجہ کا انتقال 1929ء میں ہوا، جبکہ جناح صاحب 1948ء میں رخصت ہوئے۔ اس دوران تقریباً 19 سال کا عرصہ گزرا۔ مریم جناح: ایک غیر روایتی محبت کی کہانی ممبئی میں وکالت کے دنوں میں جناح صاحب کی ملاقات ایک پارسی خاندان کی 16 سالہ لڑکی سے ہوئی، جو بعد میں مریم جناح بنی۔ اس نوجوان لڑکی میں درج ذیل خوبیاں تھیں: […]

قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کی زندگی کا وہ پہلو جو کم لوگ جانتے ہیں مزید پرھیں

سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش

میں ایک ایسے معاشرے کا فرد ہوں جہاں امیر کی بکواس بھی غور سے سنی جاتی ہے اور غریب کی چیخ و پُکار پر کان نہیں دھرے جاتے۔ جہاں سٹیٹس سمبل عزت کا استعارہ ہے۔ آئی فون، ویگو، فارچونر و پراڈو کھوکھلے لوگوں کو معتبری کی سند ہے۔اس قدر حبس بھرا ماحول ہے کہ سانس لینے کو اپنے اطراف کی آکسیجن خود پیدا کرنا پڑتی ہے۔ میں فارچونر یا پراڈو یا ریوو لے سکتا ہوں مگر نہیں لی اور نہیں لوں گا۔ مجھے اس کلچر کا حصہ نہیں بننا جس کا ہر وڈیرہ، بدمعاش ،سیاسی ایلیٹ، ٹچے کاروباری وغیرہ وغیرہ حصہ ہیں۔ ڈھائی سال قبل چاؤ سے رینج روور امپورٹ کروا لی تھی۔مجھے عالمی ادارے میں ہونے کے سبب ایک گاڑی صفر ٹیکس کے ساتھ یعنی ٹیکس فری درآمد کرنے کی سہولت تھی۔ میں دو ماہ گزار سکا اور میں بیزار ہو گیا۔ وہ ایک الگ قسم کا سٹیٹس سمبل

سماج کی سانس گھٹتی ہے: سٹیٹس، منافقت اور سچ کی تلاش مزید پرھیں

دنیا بھر کی اسکالرشپس: خواب کو حقیقت بنانے کا سنہری موقع

گلوبل اسکالرشپس: تعلیمی خوابوں کی تعبیر دنیا بھر میں لاکھوں طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں، لیکن مالی وسائل کی کمی اکثر ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ گلوبل اسکالرشپس ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف مالی مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ طلباء کو بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے، ثقافتی تبادلے کا تجربہ کرنے اور اپنے کیریئر کو نئی جہت دینے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ اسکالرشپ ایک مالی امداد ہے جو تعلیمی کارکردگی، ضرورت، یا کسی خاص شعبے میں مہارت کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ یہ رقم تعلیمی اخراجات جیسے ٹیوشن فیس، رہائش، کتابیں اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ گلوبل اسکالرشپس مختلف اقسام کی ہوتی ہیں: میرٹ بیسڈ اسکالرشپس جو تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، نیڈ بیسڈ اسکالرشپس جو مالی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جاتی ہیں، اسپیشلائزڈ اسکالرشپس جو

دنیا بھر کی اسکالرشپس: خواب کو حقیقت بنانے کا سنہری موقع مزید پرھیں

شہید بی بی کی داستان حیات اور میری جہدو جہد اور مولانا فضل الرحمن

علماء کو سیاسی جماعتیں اپنے جلسوں میں بلا کر کیسے استعمال کرتی ہیں اسکا اندازہ اسلم گورادسپوری کی کتاب “شہید بی بی کی داستان حیات اور میری جہدو جہد” میں مولانا فضل الرحمن کے متعلق جو لکھا گیا ہے اس سے ہوتا ہے موصوف لکھتے ہیں ملک قاسم کے بعد مولانا فضل الرحمن کو مجھے بلانا تھا۔ میں مولانا کو ان کے مزاج کے مطابق ان کے مذہبی تصور کے مطابق ہی اکسا کر ان سے اشتعال انگیز تقریر کروانا چاہتا تھا۔ اردو زبان کے محاورے اور شاعری ان کے مولوی جتنے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے کہ مولوی ہمیشہ آیت سے ہی مارتا ہے اور آیت سے ہی مرتا ہے۔ میں نے مولوی پر تاریخ اسلام کے ایکعظیم حوالے سےوار کیا جس سے مولوی کے چھکے چھوٹ گئے ۔ مولوی اندر سے ضیاء الحق کے ساتھ میلان رکھتا تھا۔ ہر فیصلہ کے لئے عین

شہید بی بی کی داستان حیات اور میری جہدو جہد اور مولانا فضل الرحمن مزید پرھیں

پروفیسر حافظ عبدالرزاقؒ کی کتابیں

پروفیسر عبدالرزاقؒ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ سے وابستہ ایک رفیعُ الشان عالمِ ربانی، مصلحِ باطنی اور مردِ حق شناس تھے۔حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی خصوصی عنایت و شفقت آپ پر سایہ فگن تھی، اور آپ اُن کے خلیفۂ مجاز ہونے کا اعزاز رکھتے تھے۔آپ نے اپنے شیخ کی تعلیمات اور سلسلے کی علمی و روحانی امانت کو نہایت دل سوزی سے عام کیا۔ماہنامہ المرشد کے اولین مدیر ہونے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔سن 2004ء میں وصال فرمایا۔آپ کی تصانیف میں متعدد رسائل و کتابچے شامل ہیں، جو اصلاحِ نفس، تصوف، اور سیرتِ نبوی ﷺ کے عملی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے کتاب ”تصوف و تعمیرِ سیرت“ خصوصاً نہایت وقیع اور بصیرت افروز تصنیف ہے، جو آپ کے فکری و روحانی مقام کی آئینہ دار ہے۔ فہرست کتب (پروفیسر حافظ عبدالرزاق) 1. Anwaar ul-Tanzeel | انوار التنزیل 2. Anwar al-Tanzeel yani Talkhees Ahkam al-Quran | انوار

پروفیسر حافظ عبدالرزاقؒ کی کتابیں مزید پرھیں

راول پنڈی میرا شہر

          راول پنڈی میری جائے پیدائش ہے۔ میں نے اس شہر کو پچھلے آٹھ عشروں میں مختلف اطوار میں دیکھا ہے۔ اب یہ ایک فوجی چھاؤنی نہیں، جسے میں نے بچپن میں دیکھا تھا ، بلکہ پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے، جس کی آبادی ۴۰ لاکھ کے قریب ہے۔ اسلام آباد سمیت کئی قریبی شہروں نے اسےچاروں طرف سےگھیر اہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اب یہ ایک گنجان ترین علاقہ بن چکا ہے۔ جہاںانسانی مستقبل آسان نہیں ہوگا۔ اس شہر کو کئی حوالوں سے دُنیا میں جانا جاتا ہے۔ یہاں پیدا ہونےوالے بعض افراد اپنے اپنے شعبوں میں بہت معروف ہوئے ہیں۔ اُن کی ہنرمندی راول پنڈی کے لیے عزت کا باعث ہے۔میرے بچپن میں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ایک جانب ریل وے سٹیشن تھا،صبح کا ذب کے وقت ریل گاڑی کی آواز نہایت بھلی لگتی تھی۔ اسی آواز کے حوالے

راول پنڈی میرا شہر مزید پرھیں

Scroll to Top